عثمان کاکڑ کے جنازے میں لوگوں نے شرکت کرکے پیغام دیا کہ جبر کے نظام کو قبول نہیں کریں گے، لشکری رئیسانی

کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ عثمان خان کاکڑ کے سیاسی وجود اور اصولوں نے بلوچ پشتون اقوام کو یکجا کرکے پیغام دیا کہ صوبے میں آئندہ سیاست قومی حقوق کیلئے ہوگی ذاتی ضروریات،ٹھیکیداری اور تجارت کیلئے نہیں، نمازہ جنازہ کے قومی جرگہ میں شریک جیونی سے لیکر وزیرستان تک سیاسی کارکنوں نے ہم فکر ہوکرریاست‘ اسلام آباد اور طاقت کے ایوانوں کو پیغام دیا کہ جبر کے نظام کو قبول نہیں کریں گے یہ بات انہوں نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدرو سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ ایصال ثواب کیلئے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، قبل ازیں چیف آف سراوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی سربراہی میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، نوابزادہ میر رئیس رئیسانی، ارباب رب نواز کاسی، قاری اختر شاہ کھرل، عباس لہڑی، حاجی رحیم ترین، میر عدنان لہڑی،ملک مصطفی کاکڑ،علاؤالدین خان کاکڑ، دین محمد رئیسانی، لالا ظاہر خان دمڑ، میر مولا داد محمد شہی، سکندر پرکانی، نصراللہ خان کاکڑ، عبدالغفار سومرو، عظیم رئیسانی، ٹکری یعقوب رئیسانی، ملک وقار لہڑی، ڈاکٹر میر چنگیز گچکی ودیگر نے مسلم باغ جاکر پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، خوشحال خان کاکڑ، پشتونخوامیپ کے رہنماؤں اور کارکنوں سے تعزیت کااظہار کرتے ہوئے سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے عثمان خان کاکڑ کو ان کی سیاسی جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان کاکڑ نے اصولوں پر مبنی سیاست کرتے ہوئے آخری لمحہ تک ان اصولوں پر مصلحت اختیار نہیں کی جس کے نتیجہ میں رنگ و نسل سے بالا تر ہوکر سندھ سے مسلم باغ تک بلوچ،پشتون،ہزارہ،سیٹلرز نے لاکھوں کی تعداد میں ان کی میت کا استقبال، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کے اصولی سیاست کو خراج عقید ت پیش کیا اور ان کا نمازہ جنازہ اس خطے کی سب سے بڑا جتماع اور قومی جرگہ تھا جس کے ذریعے صوبے کے سیاسی قائدین، عمائدین، علماء کرام جیونی سے لیکر وزیرستان تک سیاسی کارکنوں نے ہم فکر ہوکر ریاست، اسلام آباد اور طاقت کے ایوانوں کو پیغام دیا کہ وہ جبر، ظلم اور ناانصافی کے نظام کو قبول نہیں کرتے جس نظام کے ذریعے قومی شناخت، وجود کو نقصان پہنچاکر وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کے سیاسی وجود اور اصولوں نے بلوچستان کے لوگوں کو پیغام دیاکہ اب صوبے میں مزید سیاست، تجارت اور ٹھیکیداری کیلئے نہیں بلکہ قومی حقوق کیلئے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکن عثمان خان کاکڑ کے فلسفہ کو سامنے رکھتے ہوئے صوبے میں حقوق، آئین کی بالادستی کیلئے سیاست کریں تاکہ جو لوگ اپنی ضروریات کیلئے سیاست کرتے ہیں ان کا سیاسی عمل ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کے سیاسی وجود اور اصولوں پر جس طرح بلوچ پشتون اقوام یکجا ہوئیں آئندہ بھی اپنے قومی حقوق، قومی وجود، شناخت اور ثقافت کے تحفظ کیلئے یکجا ہوکر جدوجہد کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں