بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کا استحقاق مجروح کیا، ظہور بلیدی
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ 18جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے پوری اسمبلی کا استحقاق مجروح کیا، اپوزیشن اراکین کو اعتراضات تھے تو وہ اسمبلی میں ان پر بات کرتے، حکومت نے تمام حلقوں کے لئے یکساں فنڈز رکھے ہیں تاہم جہاں پر سکول، کالج، ڈیم، سڑک و دیگر کی ضرورت ہوگی وہاں پر کام کرنے کے لئے ہم کسی سے یہ پوچھنے کے پابند نہیں، رواں سال سب سے زیادہ رقم محکمہ تعلیم کیلئے مختص کی گئی، سردار یار محمد رند کا استعفیٰ اس کا ذاتی معاملہ ہے ہم ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے کو تیار ہیں، وہ جب بھی واپس آنا چاہیں گے ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ رواں بجٹ کا حجم 584 ارب ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ 346بلین جبکہ ڈویلپمنٹ کے لئے 237بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی پی ایس ڈی پی میں 172بلین روپے رکھے گئے ہیں، 2018-19کے بجٹ میں 94 فیصد بجٹ استعمال ہوا جبکہ 2020-21کے بجٹ میں 75 بلین روپے ریلیز کیے گئے اور 97فیصد بجٹ استعمال ہوا اور 1.8فیصد کیسز عدالت میں دوسری وجوہات کی بنا پر استعمال نہیں ہوا، 2018-19میں مائنز کے لئے 4کروڑ 90 لاکھ روپے تھے جو بڑھا کر ایک ارب 50 کروڑ روپے کردیے گئے، پہلے فشریز کے لئے 29 کروڑ روپے تھے جنہیں اس سال 3 ارب روپے کردیے گئے۔ تعلیم کے لئے 10 ارب روپے تھے جو اب 18 ارب کردئیے گئے، وومن ڈویلپمنٹ کے لئے 67 ملین روپے رکھے گئے ہیں، ہم نے کوشش کی ہے کہ ڈیمز بن جائیں، سڑکوں پر بہت زیادہ کام کیا ہے، 2 سو نئے پرائمری سکول بنائے جارہے ہیں اور ہر ضلع میں پی ڈی ایم اے کی بنیاد رکھیں گے لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں کی جانب سے افوا پھیلائی جارہی ہے کہ فنڈز استعمال نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 18 جون کو اپوزیشن نے جو تماشا کیا وہ سب نے دیکھا، گیٹ کو تالے لگائے گئے، اسمبلی کو یرغمال بنایا گیا وہ کہہ رہے کہ کسی کو اسمبلی میں جانے نہیں دیں گے، ہم اکثریت میں ہیں اور آئینی طور پر بجٹ بنا کر پیش کیا اور حکومت نے اس کی منظوری دی۔ اپوزیشن کا انداز غیر جمہوری تھا اگر انہیں تحفظات تھے تو وہ اسمبلی میں آکر پیش کرتے لیکن یہ 2 سو کارکنوں کو لے آئے جنہوں نے گملے پھینکے جوتے اچھالے گئے، نعرے بازی کی۔ اب اگر تحریک چلانا چاہتے ہیں تو جمہوری انداز میں چلائے ہم نے ان کے پاس 4 وفود بھیجے لیکن ان کے واضح ڈیمانڈ سامنے نہیں، انہیں چاہیے تھا کہ بجٹ پر کٹ موشن لے آتے۔ انہوں نے پوری اسمبلی کا استحقاق مجروع کیا ہے اس کے لئے سینٹر اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک سردار یار محمد رند کا تعلق ہے تو وہ ہمارے لئے انتہائی قابل احترام شخصیت ہے اگر ان کے جائز مطالبات ہیں تو انہیں مانیں گے، وزیراعلی نے انہیں واپس بلایا ہے اور ہم بھی انہیں واپس بلاتے ہیں اگر سردار یار محمد رند ایک قدم بڑھائے تو ہم 2 قدم بڑھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کو حکومت نے اپوزیشن کی کوریج سے نہیں روکا یہ پولیس کا معاملہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے معذوروں کے لیے 2 ارب روپے اور نادار خواتین کے 50 کروڑ روپے رکھے ہیں اسی طرح نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے پروگرام بنایا ہے۔


