مذاکرات کا شوشہ صرف مذاق اور بلوچوں کی توہین کے مترادف ہے، نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی
کوئٹہ:شہید نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہاہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ دونوں کٹھ پتلی جن سے کوئی بھی ذی شعور بلوچ بات چیت کیلئے تیار نہیں،مذاکرات کاشوشہ صرف مذاق اور بلوچوں کی توہین کے مترادف ہے،ریاست کی جانب سے بلوچوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے،بلوچستان کے حکمران نہ تو صوبے کو چلارہے ہیں اور نہ ہی ان میں بلوچستان کو چلانے کی قابلیت ہے بلکہ وہ اپنے تھوڑے سے حصے کیلئے موجود ہیں،مذاکرات کے اصل مالک پیچھے بیٹھ کرآرام فرما رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ جمیل اکبر بگٹی نے کہاکہ ریاست کی طرف سے بلوچ عوام کے خلاف مظالم کا سلسلہ جاری ہیں پاکستان میں ہر روز مختلف مقامات پر انسانی حقوق کے علمبردار سیمینار منعقد کرتے ہیں لیکن بلوچستان میں جاری مظالم پر انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں بند ہوجاتی ہے محض صرف ایک اخباری بیان سے بلوچوں کو درپیش انسانی حقوق کے مسائل حل نہیں ہونگے،انسانی حقوق کیلئے جدوجہد کے نام پر صرف ڈرامہ رچایاجارہاہے بلوچ بہن بھائیوں مشکل کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کاسہارا بننے کی ضرورت ہے کوئی بھی ہمارا دوست ہے اور نہ ہی ہماری مدد کرے گا۔مذاکرات نہ صرف ایک مذاق ہے بلکہ انتہائی توہین آمیز بھی ہے ان کے پاس کوئی غیرت نہیں ہے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر ایک ان جیسا ہے،یہاں بیٹھے حکمران نہ توبلوچستان کو چلا رہے اور نہ ہی وہ صوبے کو چلانے کے قابل ہیں بلکہ وہ صرف ان ٹکڑوں کو لینے کیلئے موجود ہیں جو ان کے سامنے پھینک دیاجاتاہے،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ جام کمال دونوں کٹھ پتلی ہیں کوئی بھی ذی شعور بلوچ ان سے بات چیت کیلئے تیار نہیں ہوگا، لاپتہ افراد کے معاملے پرجعلی ریاست مدینہ سے کسی انصاف کی امید نہیں رکھنی چاہیے،انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی پاورشیئرنگ بارے کچھ نہیں کہاالبتہ ان کے پاس طاقت نہیں ہے وہ صرف بلوچ سرزمین پر لوٹ مار میں ملنے والے حصہ کیلئے موجود ہیں ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات میں جن لوگوں کی وجہ سے پیشرفت ہوسکتی ہے وہ کھیل کے پیچھے آرام سے بیٹھے ہیں،شاہ زین بگٹی ہو یا پھر جام کمال یا کوئی اور بلوچ اتنے بے وقوف نہیں کہ ان سے بات کرے پہلے بھی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کوششیں کی لیکن کیانتیجہ نکلا نہ تو آج ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کوئی بات کی کہ ان کے سامنے کیامطالبات رکھے گئے ہیں۔


