اگر افغانستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو بلوچستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ نہ پاتا، جعفر خان مندوخیل

کوئٹہ :پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنما وسابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہاہے کہ افغانستان کا معاملہ سنگین ہے حکومت اور ریاست کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے،اگر پہلے سے افغان معاملے کو بہترانداز میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو بلوچستان،خیبرپشتو نخواا ورقبائلی علاقہ جات جنگ کے اثرات سے محفوظ رہتے اور بلوچستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ نہ پاتا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہاکہ افغانستان میں کشیدہ صورتحال سے سب سے زیادہ اثرات بلوچستان،خیبر پشتونخوا اور قبائلی علاقہ جات پر مرتب ہوتے ہیں کیونکہ یہ علاقے افغانستا کے بارڈر کے ساتھ منسلک ہے ملک کے دوسرے علاقے ان اثرات سے محفوظ رہتے ہیں،افغانستان کے موجودہ حالات پر حکومت اور ریاست کی جانب سے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے پہلے افغان مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ بہترانداز سے حل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آج بلوچستان میں کلاشنکوف کلچر پروان چڑھا ہے اور کوئی بھی گھر اس شر سے محفوظ نہیں ہے اس جنگ کے نتیجے میں دونوں صوبوں کو بھاری قیمت چکانا پڑھ رہی ے،انہوں نے کہاکہ حکومت کوکسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آج،کل اور پرسوں کا سوچنا چاہیے تاکہ ہنگامی حالات سے بہترانداز میں نمٹا جاسکے،شیخ جعفر مندوخیل نے کہاکہ ریاست کو ذمہ داری کے ساتھ معاملے کااحساس کرناہوگا سنگینی کی صورت میں بلوچستان اور خیبر پشتونخوا اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں