دہشت گردی سے افریقہ سب سے زیادہ متاثرہ خطہ بن گیا
براعظم افریقہ کو سن 2021 کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی نے شدید متاثر کر رکھا ہے۔ اس براعظم کے وسطی، مشرقی اور مغربی حصوں میں کورونا وبا کی پابندیوں کے باوجود دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
افریقی براعظم میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کی جانب سے تیئیس جولائی بروز جمعہ سکیورٹی کونسل کے رکن ملکوں میں تقسیم کی گئی۔ اس رپورٹ کے مرتبین اقوام متحدہ کے ماہرین کا ایک پینل ہے۔
اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک میں سرگرم رہنے والی دو بڑی جہادی تنظیموں نے اب ٹھکانے تبدیل کرتے ہوئے افریقی ملکوں میں ڈھیرے ڈال لیے ہیں۔ وہ کئی ملکوں میں بھرپور انداز میں متحرک اور سرگرم ہیں۔
وسطی، مشرقی اور مغربی افریقہ کے ممالک میں ‘اسلامک اسٹیٹ‘ اور القاعدہ سے وابستگی اور نسبت رکھنے والے انتہا پسند گروپوں نے ایک وسیع علاقے کے لوگوں پر اپنا اثر قائم کر رکھا ہے۔ یہ گروپس اپنے مخالفین کو زیر کرنے اور دوسرے علاقوں کے افراد کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں میں ناکامی کی صورت میں پرتشدد حملے اور دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے بے گنا انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان دونوں جہادی تنظیموں کے کارکنوں نے ہتھیاروں کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے زیر اثر علاقوں اور دوسرے حامی ہم خیال حلقوں سے عطیات اور چندہ بھی جمع کرنے میں بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے یہ اب ڈرونز کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔


