افغانستان،عید کے دن صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے میں ملوث 4جنگجو گرفتار
کابل:افغان فورسز نے عیدالاضحی کی نماز کے دوران کابل میں صدارتی محل کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے راکٹ حملے میں ملوث کمانڈر سمیت 4 طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدارتی محل کے قریب اس وقت تین راکٹ آکر گرے تھے جب صدر اشرف غنی اور ان کے اعلیٰ عہدیدار محل کے احاطے میں کھلے مقام پر نماز عید ادا کر رہے تھے۔افغان وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس نے کابل میں آپریشن کے دوران حملے میں ملوث 4 طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا، حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔وزارت داخلہ کے ترجمان میر واعظ استانکزئی نے ویڈیو پیغام کے ذریعے صحافیوں کو بتایا کہ کمانڈر مومن اور اس کے تین ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان سب کا تعلق طالبان گروپ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ مومن راکٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا،گروپ دیگر حملوں میں ملوث ہے۔صدارتی محل کو گزشتہ سال اس وقت بھی نشانہ بنایا گیا تھا جب سیکڑوں افراد دوسری مدت کے لیے اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شریک تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔طالبان حالیہ سالوں میں اسلامی تہواروں کے دوران سیز فائرز کا اعلان کرتے رہے ہیں جس دوران افغان شہری باحفاظت اپنے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کرتے تھے لیکن اس بار ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔صدارتی محل کے قریب راکٹ حملہ اس وقت کیا گیا جب طالبان، امریکا کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے انخلا کے آخری مراحل میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے مختلف اضلاع، بارڈر کراسنگز پر قبضے کر رہے ہیں۔


