ہائر ایجوکیشن کمیشن کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرکے خودمختار حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرکے اس کی خودمختاری کو باضابطہ طورپر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں مورخہ 26مارچ،2021ء کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کی ملازمت کی معیاد کو 4 سال سے کم کرکے 2سال کردیا گیا ہے اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن موجودہ چیئرمین کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا پھر حکومت کو یہ احساس ہوا کہ ان دونوں،آرڈیننس اور نوٹیفکیشن میں قانونی قسم موجود ہیں،لہذا مورخہ 5اپریل 2021ء کو دوسرا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور اس نوٹیفکیشن کے 3دن بعد یعنی 8اپریل 2021ء کو دوسرا ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا گیا وفاقی حکومت کی طرف سے اس طرح کے اقدامات بدنیتی پر مبنی ہیں اس اقدام کی بدولت موجودہ حکومت نے تعلیم کے معیار، طلباء کے حقوق،ترقی کے امکانات اور ملک کی بین الااقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے ہائر ایجوکیشن کمیشن 2002ء میں ایک خود مختیاری ادارے کے طورپرقائم کیا گیا تھا جس کا بنیاد مقصد پاکستان میں معیاری تعلیم کے فروغ دینا تھااس ادارے کے خومختیاری کے خاتمے اور پاکستان میں شعبہ تعلیم،جس کی کارکردگی پر پہلے سے ہی سوالیہ نشان ہے کو مزید کمزور کرنے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سماجی وسیاسی تنظیموں اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد حبیب طاہر ایڈووکیٹ،
ڈاکٹرکلیم اللہ، علاؤالدین خلجی، بہرام لہڑی، وطن یار خلجی، ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا یاد رہے ان افراد نے اس صدارتی آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے درخواست گزاروں کے مطابق پاکستان پہلے ہی بہت سارے مسائل کا شکار ہے اوپر سے اس طرح کے صدارتی حکم نامے ملکی صورتحال میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں موجودہ دور حکومت میں پارلیمنٹ کو یکسر نظرانداز کرکے بہت سارے فیصلے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کیے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ جب بھی کسی قسم کی نئی قانون سازی یا ان میں تبدیلی درکار ہو تو اسے پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے اور عوامی نمائندے مل بیٹھ کر فیصلہ سازی کریں لیکن اس ترمیم شدہ قانون کو جاری کرنے کے تین دن کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا جوکہ انتہائی غیر جمہوری اور بد نیتی پر مبنی عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے اس وقت سے ہائرایجوکیشن کمیشن کے موجودہ چیئرمین کے خلاف مالی وسائل میں زبردست کمی کو بنیاد بناکر مہم چلائی جارہی تھی اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چیئرمین کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم کی طرف اسے انسپیکشن ٹیم کو ہدایت دی گئیں اگرچہ حکومت کو ان تحقیقات سے کچھ حاصل نہیں ہوا اس کے باوجود متصبانہ سوچ کے حامل وائس چانسلرز اور دیگر ممبران کی جانب سے ادارہ ہذا اور چیئرمین کے خلاف مہم جاری رہی اور اس سلسلے میں بار بار نیب کو بھی درخواست دی گئیں، جو سودمند ثابت نہیں ہوئیں درحقیقت یہ حکومتی اقدامات وزیراعظم کی پسندیدہ،ہم خیال شخصیات اور موجودہ چیئرمین وزیراعظم ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،عطاء الرحمن کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے لئے گئے ہیں انہیں یہ خطرہ لاحق تھا کہ ان کے زیر نگرانی تعلیمی اداروں کو حاصل ہونے والے مالی وسائل ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کارکردگی پر مبنی مالیاتی نظام میں منتقل نہ کردیئے جائیں دراصل وزیراعظم آفس کی طرف سے ایسے اقدامات عطاء الرحمن اور ان اکے ادارے کو احتساب کے عمل سے بچانے کی کوشش ہیں ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ ادارے عوام کے پیسے سے چلتے ہیں اورا ن تمام اداروں کو بلاتفریق احتسابی عمل سے گزرنا چاہیے تاکہ شفافیت کے عمل کو یقینی بناناجاسکے ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی خودمختیاری میں وفاقی حکومت کی دخل اندازی نے سرکاری ونجی شعبہ کی تمام یونیورسٹیوں کے عہدیداران اور ممبران کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے موجودہ حکومت نے اپنی تعلیم مخالف پالیسیوں کے ذریعے تعلیم کے شعبے کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور انہوں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے فنڈز میں کمی ہے بلکہ بدعنوان اور غیر پیشہ وارانہ افراد کو مختلف تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا ہے ایسے حکومتی اقدامات ہائرایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر حملہ ہے پاکستان کی سماجی تنظیموں،وکلاء، صحافی برادری اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کا یہ مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت ایسے اقدامات سے اجتناب کرے اور فوری طور پر یہ صدارتی آرڈیننس واپس لے کر ہائرایجوکیشن کمیشن کو اس کی سابقہ حیثیت پر بحال کرنے کے ساتھ تعلیم کے شعبہ میں اس طرح کے بدعنوانی کو فوری طور پر روکے۔


