ایرانی ڈیزل و پیٹرول کے کاروبار کی بندش سے علاقے کی بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، بلوچستان عوامی پارٹی

دالبندین:بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی ڈیزل و پیٹرول کے کاروبار کی بندش سے علاقے کی بیروزگاری میں اضافہ ہوگا،کیونکہ یہاں کے لوگوں کا گزر بسر اسی ایرانی تیل کے کاروبار پر منحصر ہیں اور یہاں کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہیں ہے جس سے یہاں کے غریب اپنے بچوں اور خاندانوں کی کفالت کرسکے۔اور اسی وجہ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین نے روز اول سے بھرپور کوشش کی ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہوجاے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے اس سلسلے میں پارٹی کے قاہدین نے تیل کمیٹیوں سمیت ہر اس قیادت سے بات کی ہیں جو اس کام میں معاونت کرسکتے ہیں اور انشا اللہ اس سلسلے میں میں وزیر اعلی بلوچستان اور آئی جی ایف سی سے بھی بات کی جاہیگی تاکہ باڈر کو کسی اچھے میکنیزم کے ساتھ تیل کیلئے کھول دیا جاے، تاکہ لوگ روزگار کرسکے۔ اور ملک اور صوبے کی امن و امان میں کوہی خلل نہ آئے اور باڈر بھی محفوظ ہو بلوچستان میں کئی سالوں کیقحط سالی کی وجہ سے زراعت و گلہ بانی کیسیکٹر مکمل تباہ ہوچکے ہیں، سرکاری ملازمت نہ ہونے کے برابر ہیں،رخشان ڈویژن سمیت صوبہ بھرکیلاکھوں لوگوں کاایرانی تیل سیروزگار وابسطہ ہے،تیل کی بندش سے منفی اثرات مرتب ہونگے اور لوگوں کا بیروزگاری سے تنگ آکر منفی سرگرمیوں کی جانب مائل ہونے کا اندیشہ ہے۔مزید کہا گیا کہ ایرانی بارڈر کا ماشکیل کے مقام پر تیل کی سپلائی کی بندش سے نہ صرف چاغی بلکہ صوبے کیدیگراضلاع میں تیل کے کاروبار سیوابستہ ہزاروں افراد بیروزگار ہونگے، علاقے میں پٹرول کی قلت کی سبب 180 روپے تک فی لیٹر تیل فروخت ہورہاہے جس سے افراتفری کاماحول پیدا ہوگیا ہے. بیان میں وزیر اعلی بلوچستان اور آئی جی ایف سی بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس عوامی مشکل کے حل کیلیے جامع پالیسی ترتیب دے، تاکہ لوگ امن و خوشحالی میں روزگار کر سکے۔عوام سے بھی گزارش ہیں کہ تحمل کا مظاہرہ کرے ایک دوسرے علاقوں کے اپنے بھائیوں کا عزت اور خیال رکھے ہمارے کچھ آداب و روایات ہیں ان کو پامالی سے بچائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں