اسپین بولدک و دیگر شہروں میں سیکورٹی مسائل جلد حل کئے جائینگے، افغان قونصلیٹ

کوئٹہ؛افغان قونصلیٹ کے سکینڈ سیکرٹری عبدالخالق ایوب نے کہا ہے کہ پاک افغان دوطرفہ تجارت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی،اسپین بولدک و دیگر میں سیکورٹی مسائل کو جلد حل کیا جائیگا،حکومتی سطح پر دوطرفہ تجارت کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے سنیئر نائب صدر حاجی عبداللہ اچکزئی،نائب صدر حاجی اختر کاکڑ و دیگر نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ دوطرفہ تجارت کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس سلسلے میں تجارت پیشہ افراد کو دونوں ہمسائیہ ممالک میں مشکلات کا سامنا ہے،ایک طرف بارڈر کی بندش آڑے آ رہی ہے تو دوسری جانب سہولیات کا فقدان دوطرفہ تجارت پر اثر انداز ہورہا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کے ساتھ بارڈر مارکیٹ کا مسئلہ زیر بحث آیا تو انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان اقدامات کے لئے تیار ہے لیکن افغان حکومت راضی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارڈر کی بندش سے دونوں ممالک کے امپورٹ اور ایکسپورٹ سے وابستہ افراد مالی مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں، عین زرعی سیزن میں بارڈر کی بندش تشویشناک ہے ہم نے روزاول سے ہی مرد اور خواتین کے لئے باب دوستی پر الگ الگ راستوں کا مطالبہ کیا تھا اس وقت بارڈر کے دونوں طرف سینکڑوں کنٹینرز خالی اور مال سے لدھی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں حالات چاہے جیسے بھی ہو تجارت پر قدغن نہیں لگنا چاہیے، دوطرفہ تجارتی مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے حکام صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کی سہولیات کے لئے اقدامات اٹھائے۔ چمن، بادینی اور قمرالدین کے علاقوں میں مشترکہ بارڈر مارکیٹ کا قیام دونوں ممالک کے تجارت پیشہ افراد کے لئے مزید مواقع کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ہم نے امپورٹ کے حوالے سے بھی وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر تجارت کے ساتھ درپیش مسائل کو زیر بحث لایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈبل ٹیکس دو طرفہ کاروبار کی راہ میں حائل ہورہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تجارت کا فروغ ہمارا نصب العین ہے تاہم سہولیات کا فقدان اس سلسلے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے جب قانونی دستاویزات رکھنے والی گاڑیوں کو بے جا تنگ کیا جائے گا تو لوگ اسمگلنگ کی طرف راغب ہوں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ دستاویزات رکھنے والی مال بردار گاڑیوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ اجلاس کے موقع پر افغان قونصلیٹ کے سیکنڈ سیکرٹری عبدالخالق ایوب کا کہنا تھا کہ اسپین بولدک میں ہمیں سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ وہاں مخالف گروپ قابض ہے جلد ہی افغان حکومت اس مسئلے کو حل کرائے گی ہم دو طرفہ تجارت کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ اجلاس کے دوران جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے متعلق اعلیٰ حکام سے بات چیت کی جائے گی بلکہ انہیں ان تک پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر مشکل وقت میں تجارت پیشہ افرا دکے ساتھ ہیں افغان حکومت نے بادینی بارڈر کو فعال کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔ افغانستان کی سیکورٹی صورتحال سب کے سامنے ہیں حکومتی سطح پر ہم تجارت کی راہ میں کسی قسم کے مشکلات برداشت نہیں کریں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر خالد شہزاد، وائس پریزیڈنٹ عمران کاکڑ، سیکرٹری جنرل فائزہ، چمن چیمبر آف کامرس کے صدر جلات خان و دیگر نے کہا کہ اجلاسوں کے انعقاد کا مقصد مسائل کو اجاگر کرکے اعلیٰ حکام تک پہنچانا ہوتا ہے ہمیں ادراک ہے کہ بارڈر کے دونوں جانب امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو مسائل درپیش ہیں بلکہ کورونا کی عالمی وباء نے تجارت کی بربادی میں اہم کردار اد اکیا اور 2طرفہ تجارت پر انتہائی برے اثرات مرتب کئے، ہمیں تجارتی سطح پر رابطے برقرار رکھتے ہوئے بارڈر کو واپس کھولنے کے لئے اقدامات کرنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈبل ٹیرف بڑا مسئلہ ہے پاکستان کے ایکسپورٹ گاڑیوں سے اسپین بولدک اور قندھار میں ڈبل ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں، حالات چاہے جیسے بھی ہو بزنس، ٹریڈ اور ٹرانزٹ متاثر نہیں ہونے چاہیے ہماری خواہش ہے کہ کوئٹہ چیمبر آف کامرس بھی ہمارے ساتھ الائیڈ ہوجائے تاکہ درپیش مشکلات و مسائل کے حل میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان سے آنے والی مال بردار گاڑیوں کو بے جا تنگ کیا جانا بھی تجارت پر برے اثرات مرتب کررہا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں افغانستان سے آنے والی مال بردار گاڑیوں کو تنگ کیا جاتا ہے بلکہ کسٹم انٹیلی جنس کا بلوچستان میں بھی رویہ بہت ہی امتیازی ہے اس سے اسمگلنگ کو فروغ ملے گا اور قانونی تجارت سے لوگ بدظن ہوں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان دو طرفہ تجارت کے لئے سرکاری سطح پر دونوں ممالک اقدامات اٹھائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں