ٹھل کی واٹر سپلائی اسکیم کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن

جیکب آباد:ٹھل کی واٹر سپلائی اسکیم کے 58کروڑ 57لاکھ روپیوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف، 8سال سے اسکیم کا کام مکمل نہ ہونے اور اسکیم میں کرپشن کے خلاف شہریوں مظاہرہ اوردھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں پینے کے پانی کے لیے منظور ہونے والی واٹر سپلائی اسکیم کرپشن کی نذر ہوگئی ہے اور 8 سال گذرنے کے باوجود اسکیم کا مکمل نہیں ہوسکا ہے،سندھ حکومت کی جان سے ٹھل کے شہریوں کے لیے 2012ء میں 58 کروڑ57 لاکھ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی اسکیم منظور کی گئی تھی جو ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے ٹھل کے شہری پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں اور شہری پیسوں کے عیوض پانی خریدنے پر مجبور ہیں، ٹھل میں واٹر سپلائی اسکیم میں مبینہ کرپشن اور اسکیم کا کام مکمل نہ ہونے کے خلاف جدوجہد ایکشن کمیٹی کی جانب سے ٹھل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دیا گیا اور علامتی بھوک ہڑتال کی گئی، اس موقع پر جمال جوش برڑو، عبدالرزاق لاشاری، کامریڈ آدرش سندھی، مفتی نظام الدین بنگلانی، اصغر لاشاری، خلیل لاشاری، لیاقت برڑو، سلیمان برڑو اور دیگر نے کہا کہ 8 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود واٹر سپلائی اسکیم کا کام مکمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے شہری پینے کے پانی سے محروم ہیں،انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے شہری زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے اکثر شہری مختلف جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر سپلائی اسکیم میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کرائی جائے اور جلد اسکیم کا کام مکمل کرکے شہریوں کو صاف پانی فراہم کیا جائے بصورت دیگر ہماری تحریک جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں