کورونا وبا میں اپوزیشن ارکان اپنے حلقے کی بجائے گھر والوں کیلئے سامان مانگتے تھے، ضیاء لانگو

کوئٹہ :صوبائی وزیر داخلہ وپرونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم)میر ضیا اللہ لانگو نے کہاہے کہ کورونا وبا میں اپوزیشن ارکان حلقے کی بجائے اپنے اور گھر والوں کیلئے سامان مانگتے تھے،حکومت بلوچستان نے کورونا وبا میں 27ہزار زائرین کو سہولیات فراہم کی،جب کوئی تفتان جانے کو تیار نہیں تھا پی ڈی ایم اے اور حکومت بلوچستان نے بہترحکمت عملی سے زائرین کو سہولیات دی مجھ سمیت ہر پاکستانی کو کورونا وبا میں فرائض سرانجام دینے والوں کے احسان مند ہوناچاہیے،حکومت بلوچستان نے وبا میں انسانیت کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کام کیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہاکہ صوبائی حکومت یا پی ڈی ایم اے نے کورونا کی وبا کے دوران جن مشکل حالات میں کام کیاہر بلوچستان اور پاکستانی کو ہم پر فخر ہونا چاہیے ہم نے ایسی صورتحال میں تفتان بارڈر پر کام کیا کہ اگر کوئی کسی کو ہاتھ بھی لگائے تو وہ کورونا کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے اپوزیشن ارکان اسمبلی خودساختہ طورپر کورنٹائن تھے اس وقت پی ڈی ایم اے کے نوجوانوں نے 27ہزار زائرین جن میں 3ہزار بچے تھے کو ریسکیو کرکے ٹینٹ ہاؤس پہنچائے گئے ان زائرین میں ڈاکٹرز، آفیسرز بھی تھے جنہیں 10دن ایران جبکہ 15دن تفتان میں کورنٹائن کیاگیا تو زائرین کے ساتھ جو بچے تو وہ دودھ،بسکٹ یا پھر چاکلیٹ بھی مانگتے ہوں گے ایک ماہ اگر کسی کو کمرے میں بند کیاجائے تو پھر زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے حکومت بلوچستان کی اس وقت کی پالیسی تھی کہ انسانیت کوبچایاجائے ہمارے لوگوں نے مشکل حالات کے دوران جس طرح کام کیا دنیا کی نسبت پاکستان میں کورونا سے کم نقصانات ہوئے ہیں،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سے تفتان بارڈر8سو کلومیٹر کے فاصلے پر محیط ہے تفتان ویرانہ ہے جہاں ضرورت کا ہر سامان کوئٹہ سے بھیجنا پڑتا تھا جس میں حکومت کا خرچہ آتاہے کورونا کی وجہ سے ضروری سامان بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی ناپید ہوگیااور صوبائی محکموں کی محنت کی وجہ سے لوگوں کو ماسک میسر ہوا سینی ٹائزر فراہم کیا گیا مارکیٹ میں سامان کی قلت کے باوجود فراہمی پر محکموں کو داد دینی چاہیے،انہوں نے کہاکہ سامان کی خریداری کسی منسٹریا ڈی جی کی دستخط سے نہیں ہوتی تھی بلکہ اس سلسلے میں وزیراعلی بلوچستان کی تشکیل کردہ کمیٹی کے ذریعے معیاری سامان خریدار جاتاہے جس کا بلوچستان ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرتاتھا باقاعدہ رپورٹ جمع کرائے جارہے تھے،نیب اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے بھی نظرثانی کررہے تھے،انہوں نے کہاکہ ناممکن آپریشن کو پی ڈی ایم اے اور حکومت بلوچستان نے ممکن کردکھایا،27ہزار لوگوں کو ہر حالت میں کورنٹائن کرناتھا تمام صوبے گواہ ہیں کہ دیگر صوبوں کے لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی تھی زائرین کو این ڈی ایم اے کی مینیو کے مطابق 750روپے فی شخص کھانا کھلایاجاتا تھا لوگ کہتے ہیں کہ ہم بیٹھے تھے اور ذہنی طورپر ڈسٹرب ہورہے ہیں ہمیں کھیلنے کیلئے سامان بھی پہنچاناہے،پی ڈی ایم اے نے انسانیت کومدنظررکھتے ہوئے پاکستان کو اس وبا سے بچانے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ تمام آفیسران،عملے کومبارکباد پیش کرتاہوں وہ لوگ جنہوں نے وبا میں اپنا کام کیا لوگ آنے کیلئے تیار نہیں تھے پی ڈی ایم اے ودیگر ملازمین تھے جنہوں نے لوگوں کی خدمت کی مجھ سمیت ہر پاکستانی کو ان ملازمین کااحسان مند ہوناچاہیے بلوچستان سارا ہمارا ہے وبا میں ہم نے کسی کے حلقے کو نہیں دیکھا بلکہ تمام بلوچستان کو فوکس کیا اور سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی کہ کسی کو تنقید کرنے کی جرات نہیں ہوئی اپوزیشن ارکان کوئی بھی میرے آفس نہیں آئے کہ میرے حلقے میں کسی کو ضرورت ہے وہ جب بھی پی ڈی ایم اے آفس آتے تھے تو اپنے اور گھر والوں کیلئے سامان مانگتے اور ہم پھر سامان فراہم کرتے،انہوں نے کہاکہ پاکستان وبلوچستان کانظام سائنٹفک ہوگیاہے ہر ادارے کا اپنا ویب سائٹ بن گیاہے ہم نے ٹیم ورک کی طرح کام کیا ہر محکمے نے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں