چائینز انجینئرز کے قافلے پر حملہ خودکش، دو بچے شہید، ڈپٹی کمشنر گوادر کی پریس کانفرنس
گوادر (بیورورپورٹ) گوادر میں چائینز انجینئر کے قافلہ پر حملہ خود کش قرار دے دیا گیا۔ اس حوالے سے رات گئے ڈپٹی کمشنر گوادر میجر ریٹائرڈ عبدالکبیر خان زرکون اور ایس ایس پی گوادر ڈاکٹر فرحان زاھد نے ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں کو واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کی شام تقریبا 7 بجے چائنیز انجینئرز کا قافلہ پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں مشرقی ساحل پر زیر تعمیر ایکسپریس وے کے قریب گزر رہا تھا کہ وہاں اس پر ایک خود کش بمبار نے حملہ کیا جس کی زد میں آکر دو بچے شہید ہوگئے اور تین راہ گیر زخمی ہوئے ہیں جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے جن کو علاج کے لئے کراچی روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے یہ حملہ خود کش معلوم ہوتا ہے۔ چائنیز انجینیرز خود کش حملہ سے محفوظ ہیں اور ان کی سیکورٹی مامور عملے کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کی بھی تردید کی جس میں یہ بتایا جارہا ہے کہ ہلاکتیں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ بلاسٹ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے اور اسنیپ چیکنگ بھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ چائینیز انجینیرز مشرقی ساحل پر 19 کلومیٹر طویل سڑک ایکسپریس وے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ یہ سڑک گوادر بندرگاہ سے کوسٹل ہائی وے کو ملائے گی۔


