کوہلو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے باوجود کوہلو کے مقامی لوگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہیں،ساجد ترین

کوئٹہ:کوہلو کے چند نوجوان انجینئرز نے ساجد ترین ایڈووکیٹ سے ملاقات کی اور کوہلو کے مقامی لوگوں کے ساتھ OGDCL کی ناانصافی پر گفتگو کی اور ساجد ترین سے اس مسئلے پر آواز اٹھانے کی درخواست کی۔جس پر بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ کوہلو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے باوجود کوہلو کے مقامی لوگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہیں اور انجینئرز اور لیبر پنجاب سے نوکریوں پر رکھا گیا ہے۔ اور ہیڈ آفس بھی پنجاب میں بنایا گیا ہے جو کہ واضح طور پر بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ خاص طور پر کوہلو کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔مقامی نمائندے بھی اس معاملے پر خاموش ہیں جبکہ کوہلو میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ او جی ڈی سی ایل کوہلو کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے کیونکہ ان نوکریوں پر ان کا حق ہے۔ جیسا کہ ان کے زمین پر گیس دریافت ہوئی ہے۔بلوچ اور پشتون کے وسائل لوٹنے کا پرانا کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ یہ آئین میں دیا گیا حق ہے کہ مقامی لوگوں کو اپنی زمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل پر پہلے حقوق حاصل ہیں بلوچستان کے ساتھ یتیم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کا بلوچستان کے عوام کو مزید ملازمتیں دینے کے بجائے وہ بلوچستان کے لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اسے بھی چھین رہے ہیں۔کوہلو کے انجینئرز سے بات کرتے ہوئے سینئر قانون دن ساجد ترین کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ ناانصافی نہ روکی گئی تو ہم ہر ممکن پلیٹ فارم پر یہ مسئلہ اٹھائیں گے اور کہا کہ چاہے بلوچستان کے کسی حصے میں ناانصافی ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر ایک کا فرض ہے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بلوچستان حکومت بھی اس معاملے پر خاموش ہے۔ جبکہ بلوچستان کے عوام کے پاس معاملات کو عدالتوں میں لے جانے کے بجائے کوئی آپشن نہیں ہے۔اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں کو بھی یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق ہماری نسلوں کے مستقبل سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں