نواب صاحب کا راستہ
تحریر: انورساجدی
نواب صاحب نے بلوچ قومی جہد اور سیاست کو ایسے معنیٰ دیئے کہ انکی قربانی کے بعد روایتی سیاست ختم ہوگئی لوگ ریاست کے معاملات سے لا تعلق ہوگئے معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا لیکن لگتا ہے کہ بہت عرصہ تک چلے گا اگریہ مرحلہ ختم بھی ہوگیا تو ایک نیا مرحلہ شروع ہوگا ایک اور اکبر خان جان کی بازی لگاکر نئے انداز میں جلوہ گرہوگا اور یوں تاریخ کا دھارا چلتا رہے گا۔
جنرل پرویز مشرف نے جب تراتانی میں آپریشن کا فیصلہ کیا تھا تو وہ طاقت کے زعم میں تھا اور انہیں گھمنڈ تھا کہ نواب صاحب کی لاش بھی بھٹو کی طرح خاموشی کے ساتھ دفن کی جائے گی اور کچھ نہیں ہوگا مشرف ایک اور دیس کا آدمی تھا وہ موجودہ پاکستان کی روایات اور صورتحال کو جڑ تک نہیں جانتا تھا اس لئے اس نے ایک برطانوی سپاہی کی طرح سوچا پرویز مشرف کو کیا دوش اسکے پیشرو حکمران بھی ایک ہی ڈگرپر چلے اسکندر مرزا ہو ایوب خان ہو یحییٰ خان ہو ضیاؤ الحق ہو سب ایک طرح سے سوچتے تھے چونکہ ان کی تربیت برطانوی اداروں سے ہوئی تھی اس لئے وہ ہر مسئلہ کا حل طاقت کے استعمال کو سمجھتے تھے حالانکہ ان کا آقا سیاسی طریقے بھی آزماتا تھا لیکن یہ اس سے نابلد تھا۔
جب بینظیر وزیراعظم تھیں تو انہیں ایک خاص رپورٹ ملی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ نواب صاحب”بلڈ کلاٹ“ کی بیماری میں مبتلا ہیں ان کے ایک پیر میں کینسر کے اثرات زیادہ ہیں ڈاکٹروں کے مطابق وہ زندگی کے آخری دن گزاررہے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی رپورٹ کے برعکس نواب صاحب چند برس تک زندہ رہے اور انہیں یہ موقع ہاتھ لگا کہ وہ تاابد زندہ رہیں۔
آج دیکھیں کے ریاست کے طول وعرض میں خواتین کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے نواب صاحب نے ایک بیرونی خاتو کی عزت کی خاطر نہ صرف اپنی زندگی داؤ پر لگادی بلکہ اس کے بعد جو ردعمل آیا اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے نواب صاحب کا یہ تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھاجائیگا۔
نواب اکبر خان انتہا پسند یا ضدی انسان نہیں تھے انہوں نے بلوچستان کے مسئلہ پر کبھی بات چیت اور مذاکرات سے گریز نہیں کیا انہوں نے جنرل مشرف کی بھیجی ہوئی کئی ٹیموں کے ساتھ بات چیت کی وہ خود جنرل مشرف سے بھی ملنے کو تیارتھے لیکن عین موقع پر مشرف اور انکے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ مذاکرات کی بجائے طاقت کا استعمال کیاجائے انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ عمل انکے گلے پڑے گا اور ہمیشہ نواب صاحب کے ناحق قتل کا الزام ان کا پیچھا کرتا رہے گا نواب صاحب کے تمام مطالبات بشمول ساحل ووسائل کی بلوچستان کوواگزاری ریاستی آئین کے تحت تھا وہ اسلام آباد کے حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ بلوچستان بلوچوں کا مادر وطن ہے اس پر قبضہ مت کرو بلکہ ایک پولیٹکل سٹیلمنٹ سے کام لو مقامی لوگوں کے حقوق کی ضمانت دو اور بلوچستان کو مفتوحہ علاقہ مت سمجھو لیکن حکمران یہ ماننے کو تیار نہیں تھے جنرل مشرف نے سوئی جہاز بھیج کر اسے واپس بلالیا یعنی خود ہی مذاکرات کا دروازہ بند کردیا لیکن نواب نے صاحب کردارہونے کا یہ ثبوت پیش کیا کہ وہ حکمرانوں کے سامنے جھکے نہیں انہوں نے رحم کی کوئی بھیک نہیں مانگی پیرانہ سالی اور کینسر کے باوجود انہوں نے اکیلے جبر کے مقابلہ کا فیصلہ کیا وہ اپنا گھر چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پہاڑ بلوچوں کی آخری پناہ گاہ ہیں وہ بالاچ گورگیج کی شاعری سے متاثر تھے جس سے پہاڑوں کو بلوچوں کا قلعہ قراردیا تھا۔
انہوں نے دلیری اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا وہ ڈٹے رہے حتیٰ کہ پرویز مشرف نے بمباری کرکے شہید کردیا۔
نواب صاحب کی شہادت کے بعد عمومی خیال یہی تھا کہ کوئی بڑا ری ایکشن نہیں ہوگا لیکن بلوچستان کے طول وعرض کے علاوہ 26اگست کی رات کو جب کراچی شہر میں شدید گھیراؤ جلاؤ ہوا تب حکومت کو اندازہ ہوا کہ لوگوں نے بہت گہرائی سے نواب صاحب کا درد محسوس کیاہے۔
نواب صاحب نے جاتے جاتے اپنا ورثہ یا اپنی سیاسی میراث ان بلوچ نوجوانوں کے سپرد کی جن سے ان کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا وہ جانتے تھے کہ یہی لوگ ان کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے غالباً ان کو اندازہ تھا کہ براہمداغ خان کو چھوڑ کر انکے دیگر وارث کیا راستہ اپنائیں گے آج جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس قابل نہیں ہے کہ اس پر کوئی تبصرہ کیا جاسکے اسی طرح مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ براہمداغ بھی کتنے پانیوں میں ہے انہوں نے ابتک ڈاکٹرمالک کے سوا کسی اور سیاسی یا حکومتی شخصیت سے ملاقات نہیں کی البتہ افواہ ہے کہ اعلیٰ اہلکار ان سے ملتے رہے ہیں لیکن آج تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی کچھ عرصہ بعد ان کے کزن شاہ زین بگٹی ان سے ملنے جائیں گے تو حقیقت حال کا پتہ چلے گا لیکن کئی لوگوں کا یہ اندازہ ہے کہ براہمداغ کوئی عامیانہ اور غیرسنجیدہ کام کی انجام دہی سے گریز کریں گے نواب صاحب نے صرف انہی کی سیاست تربیت کی تھی وہ ہر وقت ان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے وہ نواب صاحب کے سیاسی ورثہ قوم سے ان کی وابستگی اور نظریات سے کافی حد تک واقف ہوچکے تھے وہ انہیں اپنا سیاسی جانشین سمجھتے تھے اور اگر زندگی رہتی تو لوگ دیکھتے کہ نواب صاحب خود ان کی جانشینی کا اعلان کرتے اس کے باوجود اگربراہمداغ کوئی کمزوری دکھاتے ہیں تو یہ ان کی ذاتی کمزوری ہوگی ایک مرتبہ ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ
تومین مرنے سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ بزدلی دکھانے سے ختم ہوتی ہیں
ان نظریات کے باوجود اگر وہ راستہ بدلتے ہیں تو ان کی مرضی
لیکن بات طے ہے کہ انفرادی فیصلوں کا تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اپنی زندگی کے آخر میں نواب خیر بخش مری نے یہ کلمات کہے تھے کہ ان کی تحریک کے وارث بلوچ نوجوان ہیں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ آخری سردار ہیں ان کے بعد بلوچ سرداری نظام کو تسلیم نہیں کریں گے جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو دونوں نواب صاحبان نے اس کا رخ تبدیل کردیا کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ چند پارلیمانی نشستیں یا کچھ وزارتیں نہیں ہیں یہ بقاء کا مسئلہ ہے زندہ رہنے کا مسئلہ ہے اور بلوچستان کے دفاع کا مسئلہ ہے اگر بلوچستان میں ڈیموگرافک تبدیلی لائی گئی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ بلوچ اپنی سرزمین سے بے دخل ہوگیا اس کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے۔
لہٰذا
اس وقت جو جماعتیں اپنے آپکو سیاسی کہتی ہیں یا جو پارلیمانی نمائندگی کیلئے زور لگارہی ہیں وہ اپنے عمل کا ازسرنو جائزہ لیں وہ اپنے تمام ظاہری اور فروغی اختلافات کو طاق میں رکھ دیں اور بلوچستان کے دفاع کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں بے شک وہ الیکشن لڑیں یا نہ لڑیں لیکن ایک آواز ہوکر حکمرانوں کو بتادیں کہ قومی تشخص مٹانے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیاجائے گا اس ضمن میں سردار اختر مینگل اور ڈاکٹرعبدالمالک پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کیونکہ اس وقت بلوچستان کا معاملہ ایک نازک مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور اس صورت میں پارٹی بازی ذاتی دشمنی یا اختلافات معنی نہیں رکھتے اگر دونوں اصحاب نواب اکبر خان کے نقش قدم پر نہیں چل سکتے تو کم از کم ان کے نقش پاتو بن جائیں اس کے ساتھ ہی اگر اور کوئی جماعت یا جماعتیں ہیں انہیں اپنے گزشتہ کرداروں سے تائب ہوکر یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھا ہونا چاہئے اس کے کام کیلئے بی ایس او کے دھڑوں کو خاص رول ادا کرنا چاہئے یادرکھیں کہ اگر موجودہ نازک صورتحال میں کسی نے مصلحت یا بزدلی کا مظاہرہ کیا تاریخ کبھی انہیں معاف نہیں کرے گی اگرانہوں نے بوجوہ ساتھ نہ بھی دیا تو قومی جہد جاری رہے گی اور لوگ اپنے خون سے اس کی آبیاری کریں گے لیکن تاریخ انکو معاف نہیں کرے گی یہ بھی سوچنے سمجھنے کی بات ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک ایسے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس ایک محکم عزم کے سوا اور کچھ نہیں ہے ان کا تعلق روایتی خانوادوں سے نہیں ہے لیکن وہ اپنی قوم کو قوم بناکردکھارہے ہیں وہ قبائلی آدرشوں سے دور نکل چکے ہیں نواب اکبر خان نے جوراستہ متعقین کیا ہے اس سے روگردانی ناقابل معافی غلطی ہوگی۔


