حامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ گھر میں نظر بند

کابل :افغانستان میں طالبان کی طرف سے سابق افغان حامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ کو گھر میں نظر بند کرنے کی اطلاعات ہیں۔ روسی خبر ایجنسی کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے گھر میں نظر بند کردیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق کے لیے اس معاملے پر طالبان کے موقف کا انتظار ہے۔ حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ افغانستان نہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گلبدین حکمت یارکے تعاون سے بات چیت جاری رکھیں گے اور ملک میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ قبل ازیں رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے افغانستان پر قبضے کے بعدعبوری کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت تیز کردی ہے‘ افغانستان میں سیاسی امور چلانے کیلئے بارہ رکنی کونسل قائم کی گئی ہے جس میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں، کونسل کے دیگر اراکین میں ملاعبدالغنی برادر، ملامحمد یعقوب، خلیل الرحمان حقانی اور گلبدین حکمت یارشامل ہیں جب کہ نئی حکومت میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو وزارت اطلاعات اور وزیر ثقافت کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے. افغان ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد نبی المروی کو افغان صوبے خوست کا گورنر تعینات کرنے کا بھی امکان ہے ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے فوجی کمیشن کے سابق سربراہ عبدالقیوم ذاکر کو افغانستان کا وزیر دفاع بنانے کا امکان ہے،تاہم طالبان کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں