بلیک ستمبر

تحریر: انورساجدی
جوبات میں لکھ رہا ہوں شائد وہ بہت سارے لوگوں کو عجیب محسوس ہو لیکن حقیقت یہی ہے پاکستان کے طویل مارشل لا ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے اپنی زندگی میں چار ملکوں کو تباہ کیا موصوف جب بریگیڈیئر تھے تو اردن کے فرمان روا شاہ حسین نے1970ء میں جنرل یحییٰ خان سے فلسطینی مہاجرین اور مسلح تنظیموں کے خلاف مدد طلب کرلی یحییٰ خان نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضیاء الحق اور ایئرفورس کے خاقان عباسی کو اردن بھیج دیا وہاں پر کئی لاکھ فلسطینی موجود تھے جو1967ء میں یروشلم پراسرائیلی قبضہ کے بعد وہاں گئے تھے ان کی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ شاہ حسین کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں فلسطینی ان کاتختہ نہ الٹ دیں چنانچہ اس خطرے کو بھانپ کر انہوں نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی ضیاء الحق اور خاقان عباسی نے مل کر ایک سال کے اندر 20ہزار فلسطینی ماردیئے جس کے نتیجے میں وہ بیروت جانے پر مجبور ہوگئے بیروت جو بحیرہ روم کا جھومر تھا1970ء تک یہ شہرنگاراں تھا اور ہر سال ڈیڑھ کروڑ سے زائد سیاح وہاں جاتے تھے لیکن فلسطینی مہاجرین کے جانے کے بعد یہ اجڑنا شروع ہوا جو آج تک دوبارہ آباد نہ ہوسکا گویا لبنان کے اجڑنے کی ذمہ داری بھی جنرل ضیاء الحق پر عائد ہوتی ہے۔
اسرائیل کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے انتہا پسندوزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ آج تک اسرائیل نے اتنے فلسطینی نہیں مارے جو ضیاء الحق نے مارے ہیں پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات بھی طویل عرصہ تک بیروت میں مقیم رہے جہاں صبرہ اور شتیلہ کے کیمپوں میں اسرائیل اور عیسائی ملیشیا نے مل کر5ہزار فلسطینی بچے بزرگ اور خواتین کا قتل عام کیاتھا۔
فلسطین اور لبنان کو اجاڑنے کے بعد ضیاء الحق نے فیصلہ کیا کہ خود اپنے ہی ملک کو اجاڑا جائے چنانچہ انہوں نے5جولائی1977ء کو منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا پہلے متفقہ آئین کو منسوخ کردیا وہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں خاص طور پر پیپلزپارٹی پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے4اپریل1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکادیا۔
انہوں نے پاکستان کی بنیادیں ہلاکر اس کا رخ ہی بدل دیا اس مقصد کیلئے انہوں نے اسلام کے مقدس نام کا سہارا لیا مجلس شوریٰ اور زکوۃٰ کانظام قائم کیا غیر منتخب اور غیر نمائندہ لوگوں کی فوج ظفر موج اپنے اردگرد اکٹھے کی تمام سیاسی جماعتوں ٹریڈ یونین اور طلباء تنظیموں پر پابندی عائد کردی نظام مصطفی کے نفاذ کا نعرہ لگایا لیکن گیارہ برس تک شرعی قائم نہ کرسکے انہوں نے سودی نظام برقرار رکھا پورے ملک کا نصاب یکسر بدل دیا بیرونی حملہ آوروں کو ہیرو قراردیا فنوں لطیفہ فلم تھیٹر اورموسیقی پر پابندی لگادی انہوں نے حوصلہ افزائی کی کہ حساس اداروں کے لوگوں کی نئے انداز میں تربیت کی جائے تاکہ وہ شمالی حملہ آوروں کے نقش قدم پر چل کر ملک کا حلیہ بگاڑدیں انہوں نے پاکستان کو ایک لبرل جمہوری کی بجائے بنیاد پرست ریاست بنانے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب رہے اس مشن میں جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد اور محموداعظم فاروقی نے خاص معاونت فراہم کی۔اسے اس خطے کی بدقسمتی کہیئے کہ1978ء کو افغانستان میں انقلاب ثور برپا ہوا جلد ہی نورمحمد ترہ کئی کو قتل کرنے کے بعد حفیظ اللہ امین برسراقتدار آئے لیکن ان کا تختہ ببرک کارمل نے الٹا اور انہوں نے اپنی مدد کیلئے سوویت افواج کو افغانستان آنے کی دعوت دی یہ صورت حال ضیاء الحق کے اقتدار کے طوالت دینے کیلئے غیبی امداد ثابت ہوئی ضیاء الحق امریکی صدر ریگن سے مل کر سوویت یونین کیخلاف جہادشروع کرنے کا پروگرام ترتیب دیا امریکہ نے اس مقصد کیلئے اپنے خزانہ کا منہ کھولا جبکہ ضیاء الحق نے دنیا بھر کے جہادی اکٹھے کرکے افغانستان پر ہلہ بول دیا ایک خوفناک جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ مارے گئے ضیاء الحق نے اپنے ملک کے ایک بڑے حصہ کو جہادی سرگرمیوں کیلئے مختص کردیا سوویت یونین کو بالآخر شکست ہوئی اور اس نے اپنی اپنی افواج واپس بلالیں بدلہ لینے کے بعد امریکہ بھی افغانستان کو بے یارومددگار چھوڑ کر چلاگیا باالکل اسی طرح جوحال ہی میں وہ وقت سے پہلے فرارہوا۔اس جنگ کے نتیجے میں اس وقت کے حکمرانوں کو اربوں ڈالر ملے جبکہ پاکستان کے حصے میں 35لاکھ افغان مہاجرین لاکھوں کلاشنکوف اور ہزاروں ٹن ہیروئن آئی نام نہاد جہادکے بعد افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا کابل کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہزاروں افراد ہلاک وزخمی ہوگئے گویا افغانستان کی تباہی کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہے جبکہ خود ان کا اپنا ملک غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کا شکار ہے لیکن ضیاء الحق کے جانشین ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں انکے جانشینوں نے مجاہدین کے بعد طالبان تخلیق کئے جنہوں نے القاعدہ اور داعش کو اپنے ہاں بلاکر پناہ دی انہی تنظیموں نے امریکہ پر حملے کئے اور عراق اورشام کو بھی تاراج کردیا نائن الیون کے بعد امریکہ نے حملہ کرکے افغانستان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا لیکن عجیب بات ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان کے کسی علاقے کی بجائے ایبٹ آباد سے برآمد ہوئے جہاں امریکہ نے رات کی تاریکی میں پراسرار کارروائی کے ذریعے اسے ماردیا افغانستان پر حملے کا حکم جارج بش نے دیا تھا جبکہ ان کے بعد آنے والے صدور نے اس بدقسمت ملک پر قبضہ برقراررکھا کرزئی اوراشرف غنی کو صدر بناکر آزمایا گیا ایک آئینی ڈھانچہ بنایا گیا اس میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی گئی لیکن طالبان کی وجہ سے استحکام نہ آسکا انہوں نے امریکہ اور اس کے مسلط کردہ حکمرانوں کیخلاف زبردست گوریلا جنگ لڑی لیکن آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ طالبان کو اسلحہ اور مالی وسائل کون فراہم کرنا تھا یہ ایک سربستہ راز ہے جس سے پردہ اٹھنا باقی ہے۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی کمزورپوزیشن دیکھ کر طالبان سے مذاکرات کافیصلہ کیا اس مقصد کیلئے قطری حکومت سے کہا گیا کہ وہ طالبان کو دفتر کھولنے اورسیاسی عمل شروع کرنے کی اجازت دے چنانچہ اس کی کیا مجال تھی جو انکار کرتا ٹرمپ کے بعد جو بائیڈن آئے تو وہ جلد بازی کا شکار ہوگئے طالبان سے اپنی خاص شرائط منوائے بغیر انہوں نے سمجھوتہ کرلیا۔اس معاہدہ کی بعض شقوں کو البتہ خفیہ رکھا گیا جس میں داعش اور القاعدہ کیخلاف کارروائی شامل ہے جبکہ یہ بھی طے کیا گیا کہ طالبان اور امریکہ خفیہ رابطے اور تعاون جاری رکھیں گے سی آئی اے کے سربراہ کا حالیہ خفیہ دورہ کابل اور ملابرادر سے ملاقات اس سلسلے کی کڑی ہے معاہدہ کی روسے امریکہ طالبان حکومت کی مالی امداد جاری رکھے گا صدربائیڈن نے کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک دھماکوں کے بعد کہا کہ طالبان اچھے نہیں ہیں لیکن وہ داعش جتنے برے بھی نہیں جوبائیڈن اقتدار میں آنے کے بعد حواس میں نظرنہیں آرہے ہیں جو ان کی شخصیت کی ساکھ تھی وہ ختم ہوگئی ہے امریکہ کے سارے اتحادی کہہ رہے ہیں کہ تمام افواج اور لوگوں کے انخلا کے مکمل انتظامات کے بغیر امریکہ کو اچانک انخلا نہیں کرنا چاہئے تھا امریکہ کی طرح طالبان کو بھی کابل پرقبضہ کی جلدی تھی وہ بھی کسی تیاری کے بغیر کابل چلے گئے اوپر سے انہیں حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا ہے اگر حکومت بناچکے ہوتے تو کابل ایئرپورٹ کاسانحہ نہ ہوتا طالبان نے کابل یا افغانستان پر قبضہ کے فوری بعد ساری جیلیں توڑ دیں اور قیدیوں کو آزاد کردیا ان میں داعش کے لوگ بھی شامل تھے طالبان کی تیاری کایہ عالم ہے کہ وہ اپنے ایئرپورٹ نہیں چلاسکتے جب ان کی حکومت قائم ہوگی تو انہیں بیرونی ممالک کی مدد حاصل کرنا ہوگی عین ممکن ہے کہ یہ مدد ترکی اور خود امریکہ فراہم کردیں خفیہ معاہدہ کی حساس شقوں کا راز افشا ہونے کے بعد چین اور روس محتاط ہوگئے ہیں انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں قیام امن اور حکومت میں تمام لسانی گروپوں کو نمائندگی دینے کامطالبہ کیا ہے لیکن امن کہاں؟ افغانستان اور امن؟ یہ طویل عرصہ تک ایک خواب رہے گا کابل ایئرپورٹ کا واقعہ تو ٹریلر ہے نہ جانے کتنے ہولناک واقعات منتظر ہیں ایک لڑائی تو داعش اور طالبان کے درمیان ہونی ناگزیر ہے داعش اپنے امیر عمرخراسانی کا بدلہ ضرور لے گی جس کے نتیجے میں ایک خطرناک خانہ جنگی شروع ہوگی اس کے بعد شمالی اتحاد اور طالبان کے درمیان بھی ٹکراؤ ہوگا اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ افغانستان لبنان اورکابل بیروت بن جائیگا لبنان تو چھوٹا سا ملک ہے جبکہ بیروت کابل سے چھوٹا شہر ہے کابل اجڑا تو پہلے ہی ہے لیکن اس بار آثار کچھ جدا نظرآرہے ہیں اگرشمال جنوب کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل نہیں کیا گیا تو ایسے خونی تصادم ہونگے کہ لوگ باقی ممالک کو بھول جائیں گے۔
اگرواقعی افغانستان ایشیاء کادل ہے تو عالمی برادری اس ملک کی سلامتی کیلئے اقدامات کرے کیونکہ افغانستان نہ صرف پورے ایشیاء کو متاثر کرے گا بلکہ نائن الیون کی طرح کے واقعات نے جنم لیا تو پوری دنیا کا امن واستحکام تاراج ہوجائے گا کوئی بعید نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے پیروکار افغانستان میں کوئی نیا تجربہ کریں اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ تباہ کن ہوگا افغانستان کیلئے بھی خود اپنے لئے بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں