سلیکٹیڈ حکومت ہر طرف سے غریب عوام پر حملہ آ ور ہے،بلاول بھٹو زرداری

ٹنڈوالہ یار :پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے سلیکٹڈ حکومت پر ہر طرف سے غریب عوام پر حملہ آور ہے ،بے روزگاری سے عوام کا معاشی قتل اور مہنگائی کرکے لوگوں کا خون چوسا جارہا ہے ، پاکستان میں بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے،کیا یہ تبدیلی ہے ؟۔ان خیالات کا اظہار پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دوسرے روز ٹنڈوالہ یار میں قائم رضوی ہاﺅس اور بچانی ہاو¿س پر ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ ناکام ترین حکومت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے انہیں معلوم ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی جماعت اپوزیشن کرسکتی ہے اور سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ قائد عوام کی جمہوری جماعت پی پی پی ہے وہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ہے ،جب بھی غیر جمہوری حکومت ہوتی ہے جب بھی سلیکٹیڈ حکومت ہوتی ہے تو عوام سے انکے حقوق چھنتے ہیں ،وہ عوام کا خون پیتے ہیں اور چوستے ہیں جس طریقے سے مشرف دور میں اپنے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی۔کوشش کی گئی جس طریقے سے آ مر ضیاءکے دور میں ہمارے حقوق چھننے کی کوشش کی گئی ڈاکہ ڈالا گیا تھا ایک بار پھر یہ سلیکٹیڈ حکومت ہر طرف سے حملہ آ ور ہو سکے ،وہ آپ سے آپ کے حقیقی حقوق چھننا چاہتے ہیں آ پکے جمہوری حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور آ پکے معاشی حقوق پر حملہ کر رہے ہیں پورے پاکستان میں پاکستان کی عوام کے معاشی قتل کرنے پر اتر آئے ہیں جس طریقے سے پہلے دن سے اس ملک کی غریب عوام اس حکومت کے نشانے پر تھے جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے بے روزگاری شروع ہوئی ہے ،تب سے غربت میں اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ،کیا آپ کو معلوم ہے کہ مہنگائی کی شرح میں پاکستان کی مہنگائی بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی زیادہ ہے ،یہ عمران خان کی تبدیلی ہے کیا انہیں پتا ہے کہ غربت اور بے روز گاری کا اضافہ اس حکومت میں ہوا ہے ماضی کی حکومتوں میں کبھی اتنی مہنگائی میں اضافہ۔نہیں ہوا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے ہم عام آدمی کا ساتھ دیں ، ہم۔غریب عوام کا ساتھ دیں غریب عورتوں کا ساتھ دیں ،ہم۔تنخواہ داروں کا ساتھ دیں ،ہم کسان ،۔مزداور اور پینشنرز کا ساتھ دیں مگر اس خان صاحب کی حکومت نے اپ کے حق روزگار پر ڈاکہ ڈالا ہے جس طریقے سے انہوں نے اسٹیل مل کو جو قائد عوام کا کارنامہ تھا اسٹیل مل۔کو بند کردیا وہاں کے 10 ہزار خاندانوں کو بے روزگار کردیا ،انہوں نے جو لوگ ایف آئی اے میں کام کر رہے تھے ،جنکو پی پی پی نے روزگار دیا تھا وہ اسلئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ہی روزگار ملتا ہے تو انکو بھی بے روزگار کردیا جاتا تھا پورے ملک میں پبلک سروس کمیشن چلتا ہے اپکو بھی پتہ ہے کہ پبلک سروس کمیشن۔کیسا ہے ایک ہی صوبے ہے جہاں پبلک سروس کمیشن پر تالا لگا ہوا ہے ایک ہی صوبہ ہے جسکے۔نوجوانوں کو اس میں روزگار موقع نہیں مل رہا ہے اور انکا روزگار خطرے میں ہے وہ اسلئے کہ آپکا پبلک سروس کمیشن بند پڑا ہے ابھی 16 ہزار خاندانوں کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے کیا اپکو معلوم ہے کہ یہ لوگ شہید بی بی کے دور میں انکو روزگار ملا ،پھر میاں صاحب کے دور میں بے روزگار کرایا گیا ،پھر صدر زرداری کی حکومت آئی ،مرد حر کی حکومت آئی ،ہم نے پارلیمینٹ سے ایکٹ پاس کرایا تاکہ انکو لوگوں کو روزگار مل سکے پارلیمینٹ سپریم انسٹیٹیوشن ہے ، کوئی پارلیمینٹ کو ڈکٹیشن نہی دے سکتا جنکو پارلیمینٹ نے روزگار دلایا ان 16 ہزار خاندانوں سے روزگار چھنا گیا ہے کیا اپنا حق نہیں ہے کہ اپکے بچے بھی روزگار کریں ،کیا ہماری قسمت میں لکھا ہوا ہے ہم۔ہمیشہ۔غریب ہی رہیں گے قائد عوام نے اس ملک کی عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ہم ترقی کریں کہ اس ملک کے نوجوانوں کو روزگار دیں روٹی کپڑا اور مکان دیں گے خان صاحب روٹی بھی چھین رہا ہے ،چھت بھی چھین رہا ہے ، روزگار بھی چھین رہا ہے ہم سب نے ملکر انکو بھگانا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو لانا ہے عوامی حکومت کا لانا ہے ،خان صاحب کی تین سالوں میں اگر کوئی کامیابی ہے تو وہ تاریخی غربت ہے ، تاریخی بے روزگاری ہے ، تاریخی مہنگائی ہے ، پاکستان ملک کی عوام نے نہ پہلے انکو مانا ہے اور نہ ان انکو مانتے ہیں اور انشائ اللہ آنے والے کل میں انکو بھگائےگا خان صاحب کی پہلی اور آخری حکومت ہے عوام کی طاقت کے ساتھ نا اہل، ناکام اور ناکام ترین حکومت کا خاتمہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں