2017 سے جرمن ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار ہنگری اور امریکاہیں

برلن:جرمن حکومت نے گزشتہ تقریبا چار سال کے دوران ہتھیاروں کی برآمد کے سرکاری اجازت ناموں سے متعلق ڈیٹا جاری کر دیا ہے۔ اس عرصے میں تقریبا تیئیس بلین یورو کے ہتھیار برآمد کیے گئے۔ سب سے بڑے خریدار ملک ہنگری اور امریکا رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق برلن میں وفاقی وزارت اقتصادیات نے جو تازہ اعداد و شمار جاری کیے، وہ چانسلر میرکل کی موجودہ حکومت کی پارلیمانی مدت کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا اکتوبر 2017 سے لے کر رواں ماہ کے اواخر تک جاری کردہ ان حکومتی اجازت ناموں سے متعلق ہے، جن کے تحت اسلحہ ساز جرمن اداروں کو مختلف ممالک کو اپنے تیار کردہ ہتھیار برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔اس تقریبا چار سالہ مدت کے دوران جرمنی نے مجموعی طور پر 22.5 بلین یورو26.5))بلین امریکی ڈالر مالیت کے ہتھیار برآمد کیے۔ ان ہتھیاروں کے درآمد کنندہ ممالک میں سب سے آگے یورپی یونین کا رکن ملک ہنگری تھا۔ ہنگری کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر رہا، جو خود بھی بین الاقوامی سطح پر ہتھیار برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔جرمن وزارت معیشت کے مطابق اس عرصے کے دوران جرمنی نے ہنگری کو 2.66 بلین یورو اور امریکا کو 2.36 بلین یورو مالیت کے مختلف طرح کے فوجی ہتھیار برآمد کیے۔جرمنی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ملکی اسلحہ ساز اداروں کو ان کی پیداوار کے حوالے سے جو برآمدی لائسنس جاری کیے جاتے ہیں، ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنے ہتھیار حکومتی منظوری سے برآمد کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ کسی بھی غیر ملکی ادارے یا ریاست کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ قانونی طور پر برآمد کرنے کے لیے ایسے اجازت ناموں کا حصول لازمی ہوتا ہے۔ایسے اجازت ناموں کے اجرا کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جرمن ساختہ اسلحہ فورا برآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ اس کے برعکس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لائسنس تو کسی ایک ماہ یا سال میں جاری کیے جائیں، لیکن اسلحے کی متعلقہ برآمدات ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد کسی دوسرے مہینے یا سال میں عمل میں آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں