زیارت واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے،جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ زیارت واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو واقعہ میں ملوث عناصر اور ذمہ داروں کا تعین کرے، صوبے کے قبائلی عمائدین اور زعماء کا وفد اسلام آباد جا کر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے اور صوبے میں بد امنی کے خلاف آواز بلند کرے، حکومت اور سیکورٹی فورسز امن و امان قائم کرنے میں اپنی ذمہ داری سنجیدیگی سے ادا کریں،یہ بات انہوں نے منگل کو زیارت دھماکے میں شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے لواحقین اورزیارت کے عوام کی جانب سے جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ امن کے بغیر تعلیم، ترقی سمیت کسی بھی قسم کے اہداف حاصل کرنا نا ممکن ہے معاشرے میں بگاڑ اور انتشار کی اہم ترین وجہ بد امنی ہے بلوچستان کے طویل عرصے سے بد امنی دیکھی اور اب ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے قبائلی و سیاسی عمائدین نے متعدد بار حکام کی توجہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کی جانب مبذول کروائی لیکن حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کے مربوط اقدامات نہیں اٹھائے گئے انہوں نے کہا کہ زیارت واقعہ نے علاقے کی فضاء کو سوگوار کر دیا ہے زیارت کے عوام اور شہداء کے لواحقین کی جانب سے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں حکومت واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنائے اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بد امنی کا حل تلا ش کرنے کے لئے قبائلی عمائدین اور زعماء کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا صوبے کا ایک وفد اسلام آباد جانا چاہیے جو حکام بالا کے سامنے بد امنی کے مسئلے کو رکھیں اور اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے اقدامات کرنے پر زور دیں انہوں نے کہا کہ صوبے کی عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے حکومت اور سیکورٹی فورسز عوام کے تحفظ کے لئے مربوط اقدامات اٹھائیں


