حکومت نے صوبے بھر کے کلسٹرز کیلئے وافر مقدار میں فنڈز رکھے ہیں،حیات خان کاکڑ

مستونگ:سیکرٹری ہائر ایجوکیشن بلوچستان حیات خان کاکڑ نے کہاہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر کے کلسٹرز کیلئے وافر مقدار میں فنڈز رکھے گئے ہیں اور بجٹ میں 15 فیصد تعلیم کیلئے رکھا گیا ہے جو کہ بلوچستان میں تعلیم کو فروغ دینے اور اسے معیاری بنانے کیلئے مددگار ثابت ہوگا جس کیلئے تمام ایڈز کو اپنی زمہ داریاں سمجھتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لانے ہونگے۔حکومت بلوچستان کی یہ خوائش ہیکہ کلسٹرہیڈ فنڈ سکولوں میں بہتر انداز میں استمال کیاجائے بلوچستان میں تعلیم کی بہتری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔اس حوالے سے کسی قسم کی کوتائی برداشت نہیں کرینگے۔بلوچستان ایک وسیع رقبے پر پہلاہواصوبہ ہے بلوچستان کا کیس ایک ڈفرنٹ کیس ہے ایجوکیشن کے حوالے سے مسائل بھی ہیں مگر ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ تعلیم کے بہتری کے بہتر کام کریں،بلوچستان کیہر بچے کو تعلیم دینا ایک بڑھا چیلنج ہیں،بلوچستان میں ٹیچرز کی ٹرینگ کا مسئلہ ہیں اور بلوچستان میں ہزاروں ایسے ٹیچرز ہے کہ جن کی ٹریننگ نہیں ہوئی کیونکہ ٹیچرز کا کام بنیادی کام ہیں بچوں کو پڑھانا اور انکو بہترین تربیت دینا آسان کام نہیں ہیں،حکومت بلوچستان کی جانب سے اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور سی پی پی اسکیم بہت جلد شروع کیا جارہاہے جس سے اساتذہ کو ٹریننگ دی جائے گی۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں اگر کوئی بچی پرائمری کے بعد مڈل سکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیرباد کردیتی ہے تو وہاں پر اس بچی کیلئے مڈل سکول لازمی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے دورہ مستونگ کے موقع پرپائلٹ سیکنڈری ہائی سکول اور کلی محمدشہی ہائی سکول کے دورہ کے موقع پر کلسٹرسے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو میں کی ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن میر وائس کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مستو نگ محمد ذکریا شاہوانی، ڈی ای او ای سعید احمد سرپرہ، ڈی ای او فی میل عائشہ بگٹی و دیگر بھی انکے ہمراہ تھے۔انھوں نے کہاکہ ایجوکیشن سیکٹر پلان کی واضع اور بنیادی پالیسی ہیکہ ہائی سکول بارویں جماعت تک ہو پائلٹ سیکنڈری ہائی سکول ہمارے ترجیحات میں شامل ہیکہ پائلٹ اور محندشہی سکول کو اپ گریڈ کرکے بارویں جماعت تک بنائیں، پائلٹ سکول شہر کے بیچ میں ہے اور بہت قدیم سکول بھی اور جگہ بھی بہت بڑا ہیمیری بھرپور کوشش ہوگی پائلٹ سکول کو ہائرسیکنڈری سکول بنایاجائیاور یہ ہائیر کا بہترین ماڈل بن سکتاہیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ بلوچستان اکثر جگوں میں لوگوں کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے اور ب فارم تو بہت دور کی بات ہے ب فارم کی شرط پر نظر ثانی کیلئے اقدام اٹھائی جائے اور اس مسلے کو حل کرینگے،بعض اوقات بڑے شہروں میں ب فارم کی ضروت ہیں کیونکہ اسکول ہی بچون کامکمل ڈیٹا بناتاہے انھوں نے بند سکولز اور اساتزہ کی غیر حاضری کے حوالے سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ایسے اسکولوں اور ٹیچرز کی نشاندہی ضروری ہیں اس حوالے سیایڈشنل سیکرٹریز کے سرپرستی میں ہماری ٹیمیں کام کررہی ہیں اور یہ کام یہاں نہیں رکھے گا ہم نے کوئٹہ سے ابتدا کیاہیں اب پورے صوبے کے دورے کیاجائینگے اور اس حوالے سے سخت کاروائی بھی عمل میں لائیں گے اور اس کام کو منطقی انجام تک پہنچائینگے۔انھوں نے تمام ہیڈز کو ہدایت کی کہ سکولوں کے پی ٹی ایس ایم سیز لوکل ایجوکیشن کونسلز اور لوکل پرچیز کمیٹیز کی تشکیل کو فوری یقینی بنائے ایس ایس ٹیز کی پروموشن کے حوالے سے ہماری کوشش ہوگی کہ جلد از جلد اس کام کو مکمل کیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں