بلوچستان حکومت کا لسبیلہ کے شہروں کیلئے ماسٹر پلان ترتیب دینے کا اعلان
وندر:بلوچستان حکومت کا لسبیلہ کے شہروں کے لیے ماسٹر پلان ترتیب دینے کا اعلان مشہور دی آرکیٹیکٹ کمپنی کے آرکیٹیکٹس کی وندر کے سرکاری و علاقائی لوگوں کے ساتھ میٹنگ تمام معاملات پر رائے لی اور تجاویزات پیش کی گئیں 30سالہ ماسٹر پلان کے لئے اسکول سیوریج لائنیں گیس کشادہ روڈ گلیاں واٹر سپلائی نظام پارکس گرانڈز اسٹریٹ لائٹس ہسپتال پارکنگ ایریاز سمیت زمینداروں اور لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے منڈیوں کا قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے بند صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ آرکیٹیکٹس کاکہناتھاکہ وندر کا سیٹلائٹ سروے ہواہے اور وندر میں آبادی کا تناسب حب کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہاہے جس سے آگے چل کر مسائل پیدا ہونگے اگر ابھی سے ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں وندر کے مسائل کو کنٹرول کرنا آسان نہیں رہیگا سوالوں کے جواب پر شرکا نے آبادی کے تیزی سے بڑھنے کی وجوہات بتائی کہ وندر کے بہترین جغرافیائی اعتبار اور نام نہاد ہاسنگ اسکیمات میں چند ہزار روپے میں قسطوں پر پلاٹس کی فروخت ودیگر اہم وجوہات ہیں جس کی وجہ سے چند سالوں میں وندر کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا جبکہ آبادیوں کو کنٹرول کرنے یا سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی یہاں تک کہ اتنی بڑی آبادیوں اور صنعتوں کے باوجود فائربریگیڈ کا موثر نظام نہیں ہے۔جبکہ وندر کا چیکھو اورکپاس کی پیداوار میں ملک بھر میں مشہورہے اس کے علاہ ناریل آم امرود سبزیوں گندم کی بھی بہترین پیداوار ہوتی ہے تاہم ویلز ایریاز میں صرف 5 سے 7 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی اور یہاں منڈیوں کی عدم سہولت کی بناپر زمیندار نقصان میں جارہے ہیں حالانکہ یہاں زراعت لائیو اسٹاک اور ماہیگیری کے شعبے میں حکومت بہتری لائی تو اس سے ناصرف بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع مئیسر آئینگے بلکہ ملک کو بھی زرمبادلہ حاصل ہوگا لسبیلہ میں لوامز یونیورسٹی کا قیام خوش آئند ہے مگر وہ ایگریکلچر اور میرین کے شعبے کے لیے کبھی شعوری پروگرام نہیں کرتے انہیں چاہیے کہ زرعی اور ماہیگیری کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو آگاہی فراہم کریں جبکہ یہاں ٹماٹر کی اچھی خاصی کاشت ہوتی ہے مگر جب فصل تیار ہوتو قیمتیں بلکل کم ملتی ہیں اور زمیندار اپنی تیار فصل کو مجبورا تلف کرلیتے ہیں جو ضائع ہو جاتا ہے اگر ان کے لیے سمال انڈسٹریز ہوں اور گورنمنٹ سہولیات فراہم کرے کہ جو ٹماٹر تلف کیے جاتے ہیں ان سے کیچپ وغیرہ بنالیں تو انہیں اچھی خاصی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔اس موقع پر میونسپل کمیٹی چیف آفیسر محمد انور بلوچ، سابق کونسلر میربہادر خان جاموٹ میرشاہجہان جاموٹ سابق وائس چیئرمین و صدر زمیندار ایکشن کمیٹی محمداسلم سوری سابق کونسلران وڈیرہ محمد سلیمان انگاریہ عبدالحفیظ انگاریہ سیکریٹری عنایت اللہ راٹھور سیکریٹری میرساجدعلی جاموٹ انجینئر اسد اللہ رئیسانی صحافی مہراللہ ابراہیم حاجی عبدالستار انگاریہ عقیل الرحمن سوری،SE بی اینڈ آر پروجیکٹ ڈائریکٹر میر احمد، SDO وندر سید سردار علی شاہ، سب انجینئر فاروق جبکہ دی آر کیٹکٹس کمپنی کے علی ایمان بہرام رئیسانی صارم زبیری اور امین نے شرکت کی۔


