طلباء کا دھرنا،مشاورت کیلئے جانے والی مذاکراتی ٹیم واپس نہیں آئی، لیاقت شاہوانی

کوئٹہ :کوئٹہ کے ریڈ زوین شہید فیاض سنبل چوک پر انٹری ٹیسٹ طلباء وطالبات کا دھرنا رات گئے جاری رہا،پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اورتشدد متعدد طلباء زخمی جبکہ 80سے زائد طلباء کو گرفتارکرلیاگیاہے، حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق طلباء سے مذاکرات اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اوردھرنا ختم کرنے کی اپیل کی مشاورت کیلئے جانے والے طلباء واپس آئے ہی ہی نہیں ہم نے بارہا رابطہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزانٹری ٹیسٹ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور طلبا تنظیموں کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب کے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ریڈ زون میں شہید فیاض سنبل چوک پر دھرنا دیاگیا جو رات گئے جاری رہا طلباء وطالبات نے رات شہید فیاض سنبل چوک پر گزاری دھرنے کے شرکاء نے کہاکہ ہرسال میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے طلبا کے حق پر ڈاکہ ڈال کر ان کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس سال بھی پی ایم سی آن لائن ٹیسٹ کے تحت طلبا کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور بے ضابطگیاں کی گئیں تو اس ظلم کے خلاف آئیں ہمارا ساتھ دیں آج ہمارے ساتھ ظلم ہوا کل آپ کے ساتھ ہوگاآئیں اس جبر کو جھڑ سے اکھاڑ دیں انہوں نے 4نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہاکہ پی ایم سی کی منعقد کردہ آن لائن ٹیسٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بارہ فزیکل ٹیسٹ منعقد کیا جائے،انٹری ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس کو 50فیصد رکھا جائے بلوچستا، فاٹا کی مخصوص نشستیں جوکہ ختم کردی گئی ہے انہیں دوبارہ بحال کیا جائے یا پھر اس کے متبادل میں بلوچستان کے کالجز میں ہماری سیٹوں کو ڈبل کیا جائے۔رات گئے پولیس کی جانب سے دھرنا دینے والے طلباء وطالبات پر ہلہ بول دیا لاٹھی چارج اور تشدد کے نتیجے میں متعدد طلباء بری طرح لہو لہان ہوگئے،پولیس نے دھرنے کے مقام سے 80سے زائد طلباء کو گرفتارکرکے پولیس لائن منتقل کردیا۔دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہاکہ میڈیکل امتحانات کے حوالے سے پورے ملک میں شکایات سامنے آرہے ہیں،فیصل سبزواری کی جانبسے بھی دوبارہ امتحانات کے انعقاد کو واحد حل قراردیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت اپنے سٹوڈنٹس کی شکایات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے،دیگر صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت کرینگے پاکستان میڈیکل کمیشن حکام سے بھی بات کرینگے۔طلباء وطالبات اطمینان رکھیں۔انہوں نے کہاکہ جمعرات کی شب میڈیکل سٹوڈنٹس کیساتھ ملاقات میں ہم انکی آواز بننے اور پی ایم سی کیساتھ انکے شکایات و مطالبات ٹیک اپ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور گذارش کیا کہ وہ روڈ پہ دھرنا ختم کریں، اس سے عوام کو مشکلات ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں مشورہ کرکے واپس آتے ہیں اور واپس نہ آئے۔ہم نے بارہارابطہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں