تربت، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا پنشن کی ادائیگی میں تاخیر،نیشنل بینک انتظامیہ کے رویے کیخلاف احتجاج

تربت:مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا پنشن کی ادائیگی میں تاخیر اور نیشنل بینک انتظامیہ کی رویے کے خلاف بینک کے سامنے زبردست احتجاج،ریٹائرڈ ملازمین نے گھنٹوں تک احتجاجا مین روڈ کو بند کردیا جس سے ٹریفک معطل رہی، احتجاجی مظاہرہ سے پنشنرز محمد عمر بلوچ، امجد علی، عبدالغفور اور دیگر نے کہا ہے کہ نیشنل بینک انتظامیہ جان بوجھ کر پنشنرز کو تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، محکمہ خزانہ سے پنشن ریلیز ہوجاتے ہیں مگر نیشنل بینک ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرتی ہے، اس سے پہلے ہرمہینے کی 25 تاریخ تک پنشن ہمارے اکانٹ میں جمع کردیے جاتے تھے لیکن اس مہینے ذلیل کرکے روزانہ بینک کے چکرلگوایاجارہاہے، جس سے ہمارے گھروں میں فاقہ پڑ چکاہے، انہوں نے کہا کہ پنشن سے ہم بمشکل گزارا کررہے ہیں، اور اسی کی امید پر ماہانہ دکانوں سے ادھار چیزیں لیتے ہیں اگر بروقت دکان داروں کو ادھار کی ادائیگی نہ کریں تو ہمارا کھاتہ بند کردیا جاتا ہے جس سے مشکلات میں مذید اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے کہاکہ نیشنل بینک تربت انتظامیہ کا رویہ ہتک آمیز اور غیرمناسب ہے، ضلع کیچ کے 4 ہزار پنشنرز ہیں نیشنل بینک تربت کی جانب سے ناروا سلوک اور عدم تعاون کی وجہ سے 3 ہزار 2 سو پنشنرز نے اپنے اکانٹ نجی بینکوں میں شفٹ کرا دیئے ہیں، ابھی نیشنل بینک تربت میں صرف 8 سو پنشنرز کے اکانٹ رہ گئے ہیں، ان کو بھی مشکلات کا شکار بنایا گیا، جب اس حوالے سے نیشنل بینک انتظامیہ سے رابطہ کیاگیا تو بینک عملے میں سے کسی نے موقف دینے اور وضاحت کرنے سیانکارکردیا، جبکہ محکمہ خزانہ کیچ کے آفیسر صدام حسین نے میڈیا کوبتایا کہ ہم نے شیٹ نیشنل بینک کو ارسال کردیئے ہیں محکمہ خزانہ سے کوئی ایشوز نہیں ہے اگر پنشنرز کو پنشن نہیں مل رہے تو یہ بینک انتظامیہ کی سستی ہوسکتی ہے، بیشتر پنشنرز کیاکاونٹ ایم سی بی تربت میں ہیں اس حوالے سے ایم سی بی تربت کے منیجر محمدخالدگچکی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے بینک کے تمام پنشنرزکو بروقت پنشن کی ادائیگی کی جاتی ہے جس سے ہمیں ابھی تک کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں