تربت،بارڈر ٹریڈ یونین وآواران کمیٹی کے حق میں ریلی و مظاہرہ

تربت:تربت میں بارڈرٹریڈیونین یونین اور آواران کمیٹی کیحق میں ریلی اور مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرین نے کہاکہ حافظ ناصر الدین اور عبدالسلام یونین کے ایماندار اور غریب دوست نمائندے ہیں انکے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع آواران، مشکے، گیشکور، زیخ، جھاو اور آواران کے دیگر علاقوں کے بارڈر ٹریڈسے منسلک زمباد گاڑی مالکان نے بارڈرٹریڈیونین کیچ کیصدر حافظ ناصرالدین زامرانی اور بارڈرٹریڈ آواران کمیٹی کیسربراہ اور معروف سماجی شخصیت عبدالسلام میروانی کی حمایت میں ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت آواران کے زمبادگاڑی مالکان علی جان بلوچ، مولابخش، محمدعیسی، مراد جان،ماسٹر عبدالغفور اور دیگر کررہیتھے، جوسک سری کہن روڈ پر ریلی نکال کر حافظ ناصرالدین زامرانی اور عبدالسلام میروانی کے حق نعرے بازی کی گئی، مظاہرین نے کہاکہ گزشتہ روز کچھ سازشی ڈپو مالکان اور بلیک میلروں نے جوسک سری کہن روڈ پر بارڈر ٹریڈ یونین کیخلاف ناکام مظاہرہ کرکے بارڈرکاروباردشمن عمل کے مرتکب ہوئے ہیں، انہوں نیسازش اور چال بازیوں سے بلیدہ میں آواران کی ٹوکن والے گاڑیوں کو روکا ہے عبدالسلام نے مداخلت کرکے انکی نوبت بچاکرجانے دیا۔ ان تمام سازش اور منصوبہ بندیوں میں چند ڈپو مالکان ملوث ہیں، عبدالسلام میروانی ایک ذمہ دار اور ہردلعزیز شخصت ہیں انکی قیادت پر ہمیں فخر ہے وہ شفاف طریقے سے اور انصاف پر مبنی فہرست بناکر غریب دوستی کاثبوت دے رہیہیں۔مظاہرین نے کہاکہ ہم بارڈر ٹریڈیونین کیچ اور آواران کمیٹی کیفیصلوں کی حمایت کرتے ہیں اور ساتھ دیتے رہیں گے۔ مظاہرین نے مزید کہاکہ تحصیل آواران کے گاڑیوں کے ٹوکن صرف 100ہیں جبکہ گاڑیاں ایک ہزار سے زائد ہیں اسلیئے ایف سی اور مقامی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ آواران کی گاڑیوں کے ٹوکن بڑھاکر400کیئیجائیں تاکہ تمام غریب گاڑی مالکان کوبھی کاروبارکا موقع مل سکے۔ کیونکہ آواران بلوچستان کا پسماندہ ترین ضلع ہے جہاں بنیادی سہولیات کی کمی کیساتھ کاروبار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں