نال گریشہ کی طالب علموں کیلئے کوئٹہ میں ایک روزہ تربیتی سیمینار کا انعقاد

کوئٹہ : نال گریشہ طالبعلموں کیلیے کریم عالم بلوچ(بساک نال زون کی صدر) کی جانب سےایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں کیریئر کاؤنسلنگ، تعلیم کی اہمیت، ٹائم منیجمنٹ، جیسے اہم تقریبات پر مباحثہ کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ میں بلوچستان کتاب کاروان کے نام سے ایک بک اسٹال کا بھی انعقاد کیا گیا۔ نال گریشہ کی طلباء اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے مقررین کے علمی خیالات سے مستفید ہوئے۔ سیمینار میں اسسٹنٹ پروفیسر بلوچستان یونیورسٹی سر جیئند ساجدی ڈائریکٹر یونیورسل سکول اینڈ کالج میر بہادر خان لانگو ،خالد میرجلالی رفیق بلوچ نے بطور مہمان خاص شرکت کی سیمینار کا آغاز باقاعدہ تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا۔

تعلیم کی اہمیت پر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن رفیق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طلباء کے تعلیمی مسائل کے حل و جمہوری حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد ہمارا نصب العین ہے۔اگر ہم بلوچ علاقوں کے تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لگتا کہ ہمارے ہاں ہر گزرتے وقت کے ساتھ بلوچ علاقوں میں تعلیمی مسائل سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ جہاں ایک طرف بلوچستان میں اسکول سطح کی تعلیمی ڈھانچہ مکمل ناکامی کا شکار ہے تو دوسری طرف کالج اور اعلی سطح پر سہولیات کی عدم فراہمی و اساتذہ کے کمی کی وجہ سے حصول تعلیم ناممکن ہو چکی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب طالبعلموں کا خود کے علمی صلاحیتوں کو نکھارناایک ضروری امر بن چکا ہے وہیں تسلسل کے ساتھ سماج میں علمی رجحان کے پروان کےلیے منظم اور اجتماعی کوششیں قومی ذمہ داری کے طور پرگردانا جاتا ہے۔

سیمینار میں اسسٹنٹ پروفیسر بلوچستان یونیورسٹی سرجیئند ساجدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس سیشن میں آکر مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں سیشن رکھ کر اپنے سٹوڈنٹس کو مستقبل کی کٹھن راستے میں کسطرح سفر کرنا ہے اور انکے بارے تربیت دے رہے ہیں میں یہ امید کرتا ہوں کہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا ۔انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا آپ لوگوں کو چاہیے کہ آپ اپنے علاقوں میں بھی ایسے سیشن کا انعقاد کریں تاکہ اپنے آنے والے معماروں کو بہتر طریقے سے رہنمائی دے سکیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت یہی سمجھایا جاتا تھا کہ سائنس کا مطلب مشکل اور آرٹ کا مطلب آسان ہوتاہےلیکن حقیقت بلکل اس کے برعکس ہے اب پتا چلا کہ سائنس ایک الگ اور آرٹ ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ہماری ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہم ایک پرسکون زندگی گزاریں اور ہر کوئی ہماری تعریف کرے لیکن اس کیلئے ہمیں علم ،محنت اور جہد و جہد کا ہونا ضروری ہے اور ہمیں ہر وقت کتابوں کو مطالعہ کرنا چائیے اور ہمیں روزانہ لائیبریری کو زیادہ وقت دینا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ طالبعلموں کو چائیے کہ وہ اپنے آپ کے لئے اس فیلڈ کو چنےجس فیلڈ میں ان کو شوق اور دلچسپی ہوں نہ کہ اس فیلڈ کو چنے جس کو ہر کوئی چنتا ہو۔جیئند صاحب بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کسی بھی راستے پر پہلی مرتبہ بغیر مشورے چلے جائیں تو ہمیں منزل تک پہنچنے میں بہت سے وقت درکار ہوتی ہے اور کیرئیر کونسلنگ کا مطلب اسی وقت کو کم کرنے کا طریقہ ہے جو طالبعلم اپنے کیرئیر کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے نہ کہ جلد بازی سے کیونکہ جلد بازی میں ہم نقصان اٹھا سکتے ہیں اور فائدہ نہیں۔

جیئند صاحب نے طالب علمون کو ٹائم منیجمنٹ ،اپنی فیلڈ کی چناؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کی اور کہا کہ اس دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جنہوں نے وقت کی قدر کی اور ناکام وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں وقت کی قدر نہ ہو دنیا کی ہر کوئی ہو چیز واپس مل جاتی ہے مگر صرف ایک
گزرا ہواوقت لوٹ کر نہیں اتا۔ انہوں نے ٹائم کے بارے میں مزید کہا کہ ہمارے ہاں لوگ سوشل میڈیا میں بے فضول اپنی قیمتی وقت کو ضائع کر دیتے ہیں اور لائیبریری میں ایک کتاب پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں ۔ہمیں سوشل میڈیا کا صحیح طریقے سے استعمال کرنی چاہئے تاکہ ہم اس سے فایدہ اٹھا کر اپنے لئے آسانیاں اپنی ہی گھر میں پیدا کرسکتے ہیں ۔

پروگرام میں ڈائریکٹر یونیورسل سکول اینڈ م کالج میر بہادر خان لانگو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومیں خوش نصیب ہیں اور خوشحالی کے عظیم مرتبہ حاصل کرلیتے ہیں جو اپنے اساتذہ کرام کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ آج بلوچ کے پاس ایسے بے شمار اثاثے ہیں۔ جنہوں نے علمی و نظریاتی جدوجہد کی بنیاد پر بلوچ نیشل ازم کے نظریہ کو زندہ رکھنے کیلئے اپنی پوری زندگی کو بلوچ قوم کے لیے وقف کیا اور انہی میں سے عظیم بلوچ اساتذہ نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اپنے آپ کو تاریخ میں امر کر دیا۔ انہی اثاثوں کے عظیم جدوجہد کے بدولت آج بلوچ قوم اپنے قومی شعور سے لیس ہے ۔میر بہادر خان نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے اس وقت کوئٹہ میں یونیورسل سکول کی 6 برانچ ہیں نال اور گریشہ کی اسٹوڈنٹس کیلے تمام کلاسسز میں %30 رعایت دی جائیگی انہوں نے کہا کہ ہم نومبرتک کوئٹہ میں امداد چوک کے قریب ڈیجیٹل لائبریری کھولنے جارہے ہیں جس میں نال گریشہ کی تمام طلباء و طالبات کو فیسوں میں %50 رعایت کی جائی گی۔انہوں نے اسٹوڈنٹس کو تعلیمی مسائل میں درپیش چلینچز کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا اور مستقل میں تعلیمی حوالے سے بھی آگاہی دی۔

کیرئیر کونسلنگ کیلے یاسر بلوچ،(آرٹس فیکلٹی) فہیم بلوچ (ڈیپارٹمنٹ آف لاء ) اسلم بلوچ (میڈیکل اور سائنس ڈیپارٹمنٹ) انجنئیر تاج محمد بلوچ (انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ) خالد میر جلالی بلوچ(ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ) پر اسٹوڈنٹس کو بھر پور طریقے سے کونسلنگ کردی گئی ۔ سیمینار کے آخر میں کریم عالم بلوچ نے اپنے آنے والے تمام مہمانوں کی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یہ ہمارے لئے باعث خوشی کی بات ہے کہ ہماری اس تعلیمی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہمیں شرف بخشی اور آخر میں تمام مہمانوں کو تحائف بھی پیش کئے گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں