بلوچستان کے بچے اور نوجوانوں کو رب العٰلمین نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، ہدایات الرحمن بلوچ
لورالائی: اسلامی جمعیت طلبہ لورالائی مقام کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج لورالائی میں ٹیلنٹیڈ طلباء کے لئے ٹیلنٹ ایوارڈ شو کا انعقاد کیا گیاتھا جس میں جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل مولانا ہدایات الرحمن بلوچ نے خطاب کیا۔ اپنی خطاب میں مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے بچے اور نوجوانوں کو رب العٰلمین نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے جس طرح بلوچستان پہاڑوں کا صوبہ ہے، صحراؤں کا صوبہ ہے، سمندر کا صوبہ ہے، مقدرتی دولت اور معدنیات سے مالامال صوبہ ہے۔ مگر ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان تعلیمی لحاظ سے نہایت پسماندہ صوبہ ہے، ایسا کیوں ہے؟آج بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم سہولیات کیوں موجود نہیں ہیں؟یہ اس لئے موجود نہیں ہیں کہ ہمارے جو سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں، ہمارے جو نمائندے ہیں ہمارے سرداروں اور نوابوں کے بچے بیرون ملک میں پڑھتے ہیں اور یہاں کے تعلیمی اداروں کو اس لئے تباہ کردیا ہے تاکہ یہاں غریب کے بچے جو پڑھتے ہیں وہ ان کے بچوں کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ سردار سمجھتے ہیزن کہ آج ہم یہاں سردار اور نواب ہیں کل ہمارے بچے لندن میں پڑھ کر یہاں آکر نواب اور سردار بنیں گے۔ اس لئے آج جو بلوچستان میں جتنی چیک پوسٹیں ہیں اتنی اگر تعلیمی ادارے ہوتے تو ہمارے بچے تعلیمی حوالے سے بہت بہتر ہوتے، آج جو بلوچستان میں فوجی اہلکار موجود ہیں اتنے اگر ٹیچر ہوتے تو آج بلوچستان پوری دنیا میں تعلیمی حوالے سے پہلے نمبر پر ہوتا، مگر ایک سازش کے تحت آج بلوچستان میں تیس ہزار فوجی موجود ہیں اتنے ٹیچرز موجود نہیں ہیں۔ہم آج اس پروگرام کے توسط سے ارباب اختیار کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہمیں تعلیم کی ضرورت ہے، ہمیں کالجز، یونیورسٹیز، لائبریریزاور ٹیچرز کی ضرورت ہے، ہمیں فوجی چیک پوسٹوں کا کوئی ضرورت نہیں ہے۔فوجیوں کا ضرورت نہیں ہے، ہمیں ٹیچرز دو، ہمیں پروفیسر دو، ہمیں کتاب اور سکول دو، ہمیں کالجز اور یونیورسٹیز دو، ہمیں لائبریری اور ڈیجیٹل انفارمیشن ہاؤسز دو۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے وزیراعلٰی، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ اکتحے پڑھیں یہ دوہرا نظام تعلیم ہمیں نہیں چاہئے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ حکومت یہاں کریں اور بچے لند ن میں پڑھیں۔ جب ہم سب اس تحریک کو منظم کریں گے کہ وزیر اور آفسر کا بچہ ہمارے ساتھ پڑھے گا۔اسلامی جمعیت طلبہ کیا چاہتی ہے؟جب پورا ظالمانہ نظام ہمیں محدود کر رہاہے کہ غریب کا بچہ فنی اور علمی صلاحیتوں سے محروم ہو، اسلامی جمعیت طلبہ غریب کے بچوں کو انہی تعلیمی اداروں سے اٹھا کر نوابوں اور سرداروں کے بچوں کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ غریب کے بچوں کو تعلیمی، فنی اور اخلاقی صلاحیتوں سے منظم کرنا چاہتی ہے۔


