سردار یار محمد رند کی قدوس بزنجو اور جان جمالی کی حمایت
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے بی اے پی کے میرعبدالقدوس بزنجو اور میر جان محمدجمالی کی حمایت کااعلان کردیا۔ اس بات کااعلان انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک ،نامزد امیدوار میرعبدالقدوس بزنجو ،بی اے پی کے قائم مقام صدر میرظہوراحمدبلیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، بلوچستان عوامی پارٹی کے نامزد وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو، بی اے پی کے قائم مقام صدر میر ظہور احمد بلیدی نے سردار یار محمد رند سے ملاقات کی اور ان سے میر عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کی درخواست کی۔ اس موقع پر سینیٹر سعید احمد ہاشمی، منظور احمد کاکڑ، عبدالقادر، میر جان محمد جمالی، میر اکبر آسکانی، حاجی نور محمد دمڑ، حاجی میٹھا خان کاکڑ، میر نصیب اللہ مری ودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پرسردار یار محمد رند نے کہا کہ سیاسی بحران میں امریکہ گیاتھا واپسی پر پارٹی ارکان کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں دوستوں کا خیال تھا کہ ہمیں نظر انداز کی جا رہی ہے اس لئے ہم نے اپنی طرف سے وزارت اعلیٰ اور اسپیکر کیلئے امیدوار نامزد کردئیے انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سالوں میں باپ پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کونظرانداز کرتی رہی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان اور تحریک انصاف مرکز میں اتحادی ہے ہم نے ہمیشہ باپ پارٹی کے ساتھ تعاون کیا ہے اور کبھی کوشش نہیں کہ صوبائی حکومت غیر مستحکم ہوں لیکن ہمیں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے ہم حق دار تھے معاملات طے کرنے کے بعد ہمیں آگاہ کیاجاتاتھا انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ باپ پارٹی کے دوست ہمارے ساتھ وہ کچھ نہیں کرینگے جو تین سالوں سے کرتے آئے ہیں پی ٹی آئی نے بلوچستان کے معاملات کو چلانے کیلئے باپ پارٹی کاساتھ دیاہے حالانکہ صوبے میں سیاسی بحران باپ پارٹی کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ۔باپ پارٹی کی اپنی اندرونی لڑائی کی وجہ سے صوبہ متاثر ہورہا ہے معاملات ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں ۔16ماہ رہ گئے ہیں ہم نہیں چاہتے ہیں کہ یہ وقت مسائل میں گزاریں ،ہم پارٹی کے فیصلوں کے پابند ہیں اس لئے باپ پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کرینگے ۔وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ باپ پارٹی کو سپورٹ کیا ہے بلوچستان میں سیاسی بحران کا مسئلہ باپ پارٹی کا اندرونی معاملہ تھا سردار یار محمد رند سے درخواست کی اور انہوں نے قبول کیاہے جو اس کابڑا پن ہے ہمیں یقین ہے کہ پی ٹی آئی کو نئی حکومت میں ان کا جائز مقام ملے گی یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ سالوں میں باپ پارٹی کی جانب سے وہ اہمیت نہیں دی گئی تھی جوپی ٹی آئی ارکان کا حق تھالیکن وزیراعظم عمران خان بلوچستان کوترقی یافتہ دیکھناچاہتے ہیں اس لئے ہم نے صرف حکومت کیلئے نہیں بلکہ ایک بہترین حکومت کی تشکیل نو کیلئے باپ پارٹی کو سپورٹ کیاہے گزشتہ روز باپ پارٹی کے تمام ارکان سب اکھٹے ہو گئے اتحادیوں کوبھی شامل کیاہے ۔نئی حکومت کی تشکیل کیلئے میں اپنے ارکان کے ساتھ رابطے میں رہوں گا صورتحال کاجائزہ لوںگا،بی اے پی کے قائم مقام صدر میرظہور احمد بلیدی نے سردار یار محمد رند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے غیر مشروط طور پر حمایت پر شکر گزار ہیں سرداریارمحمدرند ہمارے بڑے ہیں ہماری نئی حکومت میرعبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں سردار یارمحمدرند کی مشاورت سے آگے بڑھے گی سردار یار محمد رند کے خدشات درست ہے وہ ہمارے بڑے ہیں ہم نئی حکومت سرداریارمحمدرند کی مشاورت سے تشکیل دیںگے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیںگے ،باپ پارٹی اتحادیوں کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھے گی ۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہاکہ میں نے بلوچستان آتے ہی پی ٹی آئی کے ایم پی ایز سے ملاقاتیں کی اور ان کے خدشات سنیں جس پرانہوں نے کہا کہ سردار یار محمد رند آئیں گے تو مزید بات چیت ہوگی ہم پارٹی کو نہیں بھول سکتے ،ارکان کے تحفظات اور خدشات سے آگاہ ہے پہلے بھی کوشش کی کہ پارٹی ارکان کے مسائل حل کئے جائیں انہوں نے مرکز اور پنجاب میں تبدیلی کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ مرکز اور پنجاب میں کچھ نہیں ہوسکتا میں وہاں بیٹھا ہوں پریس کانفسز سے کچھ نہیں ہوتا میدان کوئی نکلے پتہ چلے گابلوچستان کامسئلہ صوبے کا ہے جس کا مرکز پر کوئی اثر نہیں پڑتا لوگ بیٹھ کر صرف باتوں سے معاملات چلانے یا اخباری بیانات تک محدود ہیں ۔ہماری جماعت مرکز اور صوبے میں اتحادی ہیں، ہمارا یہ اتحاد آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے گا امید ہے کہ بلوچستان میں پی ٹی آئی کو باپ پارٹی اہم مقام دے گی سارے اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے اتحادی جماعتوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔نامزد وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ بلوچستان کے معاملات کودیگر صوبوں اورمرکز سے نہ جوڑا جائے یہاں کاماحول الگ ہے عمران خان مضبوط ہیں ۔


