آئی جی پولیس بلوچستان نواں کلی میں زمینوں پر قبضے کانوٹس لیں، متاثرین

کوئٹہ:بلوچستان آئی جی پولیس کے خصوصی اور سخت احکامات اور ہدایت کے باوجود بااثر قبضہ مافیا نواں کلی بائی پاس کے علاقے میں غریب شہریوں کی زمینوں پر قضبے میں مصروف تھانے کچہریوں کے تکلیف دہ مراحل سے خوزدہ غریب زمین مالکان نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بلوچستان سے نواں کلی ہنہ اورڑک تھانے کی حدود میں بائی پاس کے ایریا میں غریب سرکاری ملازمین صحافیوں اور پنجابی اور سیٹلرز کے پلاٹوں پر قبضہ کرنے والی مافیا کے غیر قانونی اقدام کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری داد رسی کی اپیل کی ہے۔ نواں کلی کوئٹہ بائی پاس میں آج سیبارہ سال قبل پلاٹ لینے والے مقصود عمران بشیر نذیر صغیر احمد عابد حسین اور دیگر نے کہا کہ 2012 میں ہم نے نواں کلی بائی پاس (سر امزکہ)میں اپنے بچوں کے مستقل کو مد نظر رکھ کر پلاٹ خریدے اور مالک زمین نواب خان بازئی نے زمین کی نشاندہی کرکے مزکورہ زمین کی فرد انتقال اور اشٹام پیپر دیا۔ اور ہ بارہ سال اپنے پلاٹوں کی رکھوالی اور پلاٹنگ کی نشاندہی برقرار رکھنے کیلئے وہاں کھدائی اور پتھروں کی چنائی کرتے رہے جب حکومت نے ہنہ اوڑک بائی پاس روڈ منصوبے کا آغاز کیا تو کوئٹہ تحصیل کے پٹواری نے موقع پر جاکر ہمارے پلاٹوں کی نشاندہی کی کہ آپ کی زمین روڈ منصوبے کی زد میں نہیں آرہی جس پر ہم نے خوشی کا اظہار کیا مگر آج راتوں رات ہمارے پلاٹوں پر تحصیل پٹوار اور رجسٹرار آفس کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا ہمارے پلاٹوں پر راتوں رات سیمنٹ کے بلاکس کی دیواریں لگا کر قبضہ کرکے اپنا حق جتا رہا ہے اور جب کوئی شریف اور غریب شہری ان با اثر قبضہ مافیا کے افراد سے ایسا نہ کرنے کا کہتا ہے اور اپنے پلاٹ پر لگی غیر قانونی دیواریں گرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہنے تھانوں کے چکر لگانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں قبضہ مافیا کے ستائے افراد نے چیف سیکرٹری بلوچستان آئی جی پولیس اور کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ ہمیں اس قبضہ مافیا کے چنگل سے بچایا جائے اور تحقیقات کرائی جائیں کہ قبضہ مافیا کس بنیاد پرزمینوں کا ریکارڈ تبدیل کراکر غریب شہریوں کے پلاٹوں پر راتوں رات قبضے کررہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں