تعلیم ایک بنیادی حق
تحریر ….محمد عادل خان
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ریاست پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کہ اپنے تمام شہر یوں کو یکساں تعلیم فراہم کرے۔آرٹیکل ۲۵- A یہی تلقین کر تا ہے۔بلوچستان ایکٹ ۲۰۱۴ جس میں ۵-۱۶ سال تک کے بچوں کے لیے مفت تعلیم کا حق دیا ہے۔لیکن قلعہ عبد اللّہ ڈسٹر کٹ میں ایک ہی ہا ئر سیکنڈری سکول ہے۔کو ئی کالج،یونیورسٹی یا پوسٹ گریجویٹ کالج کا نام و نشان ہی نہیں۔خواتین کیلیئے ذکر بالا میں کچھ بھی نہیں %۹۶ فیصد بچے جن کی عمر ۱۴-۱۵ تک کی ہوتی ہے۔ سکولوں کے باہر ہیں۔شرح خواند گی خواتین و مرد کی %۳۶،جبکہ ۲۰۰۷ میں %۴۶ رہی۔%۴۵ خواتین پرا ئمری سکولوں کی چار دیواری تک نہیں،%۷ بغیر واش روم کے ،%۱۹ سکولوں میں بجلی کی فراہمی ہی نہیں اور لڑکوں کے سکولوں کے حالات اس سے بھی بد تر ہیں۔جب تعلیم کا فقدان ہوگا۔تو وہاں کے لوگ معاشرے میں گھل مل نہیں سکتے۔اور مختلف منفی سرگرمیوں میں پیش پیش رہینگے ۔جیسےکہ آپس کی دشمنیاں،لڑایاں اور فسادات میں مشغول رہتے ہیں۔ اگر چہ ان ہی لوگوں کو تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کیے جائے،تو یہی لوگ معاشرے کے ترقی کے لیے پیش پیش رہیں گے۔


