مذاکراتی کمیٹی سے میٹنگ کے دوران سیکرٹری صحت کا رویہ نامناسب اور تھا،ینگ ڈاکٹرز
کوئٹہ :ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے وزیراعلی بلوچستان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان نے 03نومبر کو کمیٹی بنائی تھی اور تین دن کے اندر رپورٹ طلب کی تھی، ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہا کہ آج 07نومبر ہے مگر کمیٹی کی جانب سے ان چار دنوں میں ایک مرتبہ رابطہ کیا گیا، ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی سے میٹنگ کے دوران سیکرٹری صحت ما رویہ نامناسب اور غیر مہذب تھا، ڈاکٹرو کی ڈگنٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، اپنے جائز حقوق کے اصول کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر کئی سنوائی نہیں ہوئی، وزیراعلی بلوچستان قدوس بزنجو سے بہتر اقدامات کی توقع تھی، مسائل کے حل کیلئے چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے اپنا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کرینگے، نااہل سیکریٹریز صحت کی نااہلی، ہسپتالوں کی بد حالی، محکمہ صحت میں بدعنوانی اور اہم عہدوں پر من پسند لوگوں کی تعیناتی کا معاملہ چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے پیش کرینگے، حکومت ڈاکٹرو کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، ڈاکٹر امیرالدین مری شہید کے قاتلوں کا تاحال گرفتار نہ ہونا حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے، آج 08نومبر بروز سوموار دن 12بجے سول ہسپتال سے صوبائی اسمبلی تک ڈاکٹر امیرالدین مری شہید کے بے ایمانہ قتل کیخلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی احتجاجی ریلی کا انعقاد ہر صورت ہوگا، احتجاجی ریلی کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔


