کاریم مس

تحریر: جمشید حسنی
میں نے براہوئی علاقہ میں ملازمت نہیں کی سرائیکی پشتو بلوچی جانتا ہوں اردو انگریزی تو روٹی کمانے کیلئے ضروری ہے۔عربی ناظرہ قرآن کی حد تک ہر مسلمان جانتا ہے۔کوئٹہ میں ہزارہ فارسی بولتے ہیں۔یہ لہجہ دای کہلاتا ہے۔ایرانی فارسی پہلوی ہے۔
براہوئی اتنی جانتا ہوں کہتے ہیں کام ہوا کاریم مسونے۔کہتے ہیں کار یم مس کام ہوگیا۔تو جناب قدوس بزنجو اور جان محمد جمالی کا کارمسوٹ ایک وزیراعلیٰ دوسرا اسپیکر،جان جمالی وزیراعلیٰ رہے۔اسپیکر رہے انہوں نے بیٹی کو سینیٹر بنانا چاہا حمایت نہ ملی،انہوں نے اسپیکری سے استعفے دے دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے ان کے لئے سڑکیں بند نہ کی جائیں ہوتا سب سیکورٹی کے نام پر ہے۔کابینہ بنے گی،محکمے تبدیل ہوں گے اور کچھ نہیں ہونا مزید 2سال بھی گزر جائیں گے۔مہنگائی کم نہیں ہونی کہتے ہیں پوری دنیا میں مہنگائی ہے۔
روم اٹلی میں G-20دنیا کے بیس بڑے صنعتی ممالک کا اجلاس ہے۔امریکہ صدر آئے پوپ سے ملے پوپ سے کرونا کے بارے میں بات ہوئی دنیا کے امیر ممالک میں ستر فیصد افراد کو ویکسین دی گئی ہے۔غریب ممالک کے صرف دو فیصد لوگوں کو ویکسین میسر ہے۔گلاسکو میں ماحولیات کے لئے اقوام متحدہ کی عالمی سربراہ کانفرنس ہے۔چین کے صدر ژی جن پنگ روس کے ولاڑی میر پوٹن نہیں آرہے۔دنیا میں ساٹھ فیصد آلودگی دنیا کے بیس صنعتی ممالک پیدا کررہے ہیں۔کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑا خطرہ ہے کون صنعتی پیداوار کم کریگا۔متبادل انرجی پرزور ہے۔ہائیڈرو پاوراہم ہے ہم چالیس سالوں میں ایک ڈیم نہ بنا سکے۔ونڈ انرجی ہے سولر انرجی ہے۔ایٹمی بجلی گھروں کے فضلہ ہے۔تابکاری پیدا ہوتی ہے۔کوئلہ کا استعمال کم کرنے کی تجاویز ہیں پہلے امریکہ صدر ٹرمپ نے عالمی ماحولیاتی پروگراموں سے علیحدگی اختیار کی عمران خان کا ایک ارب درخت لگانے کا پروگرام ہے مشرق وسطیٰ کو سر سبز بنانے کے لئے ریاض میں کانفرنس ہوئی عمران خان بھی گئے مگر نقصان ازالہ سے زیادہ ہے۔پلاسٹک کا استعمال بڑھ گیا ہے اور یہ سالہا سال نہیں گلتی۔
امریکہ اور چین تائیوان کے معاملہ پر تلخی ہے سعودی عرب اور بحرین نے لبنان سے سفیر واپس بلا لیئے ہیں۔لبانی وزیر خارجہ نے یمن میں سعودی پالیسی پر نکتہ چینی کی لبنان میں حزب اللہ کا شیعہ گروپ اور ایران حوثی باغیوں کے حامی ہیں۔شام میں بھی ایران اور لبنان شیعوی کی حمایت کررہے ہیں۔آسٹریلیا کو آبدوزوں کی فروخت اور فرانس سے سودا منسوخ کر کے امریکہ سے خریدپر فرانس امریکہ سے ناراض تھا۔روم میں امریکی صدر نے فرانسیسی صدر میکرون سے ملاقات میں اظہار کیا کہ یہ غلطی تھی آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
ہمارے ہاں کرونا ہے ڈینگی ہے۔مہنگائی ہے۔ کرکٹ کی وباء ہے۔دوسری طرف مارچ تحریک لبیک پاکستان ہے کالعدم ہے۔مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔
شاعر نے کہا
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عمران خان کا قوم سے خطاب ہے۔بدامنی کسی کے حق میں نہیں وزراء کے رنگا رنگ بیان ہیں۔وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے۔کیپٹن صفدر کہتے ہیں وہ بیوی کووزیراعظم دیکھ رہے ہیں پہلے زرداری مرد اول تھے اور صفدر مرد اول ہوں گے۔اساڈا کی تسی خوش رہو۔صنم اور غنویٰ کو اب کوئی نہیں جانتا بھٹو کے میراث خور بلاول ہیں۔
isiکا سربراہ بن گیا۔نیب کا سربراہ کون ہوگا۔میری معلومات ناقص ہیں۔ووٹنگ الیکٹرانک مشین کا چرچا ہے۔خرچ خیر ہے وزیروں کی جیب سے نہیں قومی خزانہ سے خر ہوگا۔جنوبی پنجاب گلگت بلتستان صوبہ کے موضوع پر دھول جم گئی ہے۔آدھا سیکرٹریٹ ملتان آدھا بہاولپور ہیں۔
حزب اختلاف مہنگائی کیخلاف مظاہرے ہیں،آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ ظاہر نہیں،مہنگائی لازماً بڑھے گی۔بلدیاتی اداروں کو اگر انتخابات ہوئے ترقیاتی فنڈز دینے ہوں گے فی الحال تو فنڈز پارلیمنٹرین کو مل رہے ہیں۔
شاعر نے کہا۔
عذاب دوگنا ہر جہاں مجنون است
عذاب فرصت نسلی عذاب صحبت لیلیٰ

اپنا تبصرہ بھیجیں