نیشنل ایکشن پلان کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر کے ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے،ایمل ولی

کوئٹہ:عوامی نیشنل پارٹی خیبر پشتونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ملک کو تباہی کی طرف لے جایاجارہاہے،ملکی حالات کو اس نہج پرپہنچانے کی ذمہ دار سلیکٹرز اورسلیکٹڈ ہیں مہنگائی سے غریب عوام تنگ آچکی ہیں،معاشی طور پر ملک کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے اب تو یہ عالم ہے کہ گیس ایک سہولت وہ بھی سردرد کی گولی کی طرح صبح، دوپہر اور شامل کو ملے گی،معاہدے پہلے بھی ہوئے ہیں البتہ سوال یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کتنے معاہدوں پر عمل کیاگیاہے،بلوچستان میں اختلافات بی اے پی کااندرونی معاملہ تھا اے این پی پہلے بھی اتحادی تھی اب بھی اتحادی ہے یہ ہماری تاریخ ہے کہ ہم نے کبھی بھی اتحادیوں کو نہیں چھوڑا البتہ اصولوں کی بنیاد پر اے این پی نے حکومتیں چھوڑی بھی ہیں لورالائی میں بہترین پاور شو پر پارٹی قائدین کو داد دیتا ہوں ہر گاوں ہر ضلع ہر علاقے میں اپنے شہیدوں کو یاد کرتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی،جنرل سیکرٹری محبت کاکا،صوبائی نائب صدر ورکن اسمبلی شاہینہ کاکڑ، ملک نعیم خان بازئی،سینیٹر ارباب عمر فاروق کاسی،سردار رشید خان ناصر، ملک عثمان خان اچکزئی ودیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ میں تین روزہ دور پر بلوچستان آیا ہوں لورالائی کے بڑے عوامی اجتماع پر اے این پی بلوچستان،لورالائی کی تنظیم کوداد دیتاہوں اے این پی کا جلسہ شہداء کیلئے منعقد کیاتھا بدقسمت کہہ لے یا خوش قسمت ہر روز،ہر دن،ہر جگہ اور ہر گاؤں میں ہمیں اپنے شہید یاد کرنے پڑھتے ہیں ان کا دکھ وغم بھی تازہ ہوتاہے اور ہمارا غرور اور وقار بھی بلند ہوتاہے،انہوں نے کہاکہ اے این پی پہلے دن سے اس حکومت کے ساتھ تھی جس میں ایک وزیر اور ایک مشیر تھا درمیان جو صورتحال بنی ہمارا موقف واضح تھا اب بھی ہمارا موقف واضح ہے،یہ معاملہ بی اے پی کااندرونی معاملہ تھا تاہم اپوزیشن جماعتوں نے کھلواڑ شروع کیا تو اے این پی کی اپنی تاریخ رہی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کو چھوڑتے نہیں یہ 2008ء کے بعد آصف علی زرداری کے ساتھ تھے اس وقت تمام تر وعدے سب کے سامنے ہیں 18ویں اور19ویں آئینی ترمیم میں اے این پی کاساتھ دیا ہم نے اصولوں کی بنیاد پر حکومتیں چھوڑی بھی ہیں بلوچستان میں اختلافات بی اے پی کے اندر تھے اختلافات جام کمال کے بعد جام کمال مستعفیٰ ہوگئے اور میرعبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بن گئے ہیں ہمارا پہلے بھی اتحاد تھا اور اب بھی اتحاد ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ مہنگائی تو چھوڑ دیں گیس جوایک سہولت ہوا کرتی تھی جو پورے پاکستان میں تو نہیں تھی تاہم کافی حصوں میں اب گھریلو استعمال کیلئے گیس سردردیا پاؤں کے درد کیلئے صبح،دوپہر اور شامل آپ کو ملے گی،ملک معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار ہیں فارن ایکسچینج ریٹ مزید اوپر جائے گا بنیادی ضروریات کی نرخ آسمانوں سے باتیں کررہے ہیں۔سبزی،دال،گھی،چینی سمیت دیگر کی قیمتوں میں اضافے سے غریب کا جینا مشکل ہوگیاہے اور مہنگائی سے یہ قوم تنگ آچکی ہے،پاکستانی قوم تھک چکی ہے بلیم گیم ایک پیج پر ہے یا نہیں ہے اس سے ہمارا لینا دینا نہیں تاہم نیازی کو لانے والے یہی لوگ تھے اور پاکستان کو اس حشر تک پہنچانے والے ایک پیج پر تھے اب نہیں ہے تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا تاہم عمران خان کی کیا حیثیت ہے یہ سب کو معلوم ہے سمجھ نہیں آرہا یہ معاہدے آگے چل کر تمام چیزیں سامنے آئیں گی اور نیا پنڈور کھل جائے گا بتایاجائے کہ کیا کسی صحافی نے پنڈورا بکس پر ریسرچ کی کوشش کی بلکہ ہر صحافی کو عمران خان کے دستخط کرنے اور نہ کرنے میں پھنسایاگیا سورج گرہن کب ہوگا چاند گرہن کب ہوگا ستارے مل رہے ہیں یا نہیں،لوگوں کو دستخط میں پھنسا کر پنڈورا بکس چلا گیا انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات کی تمام تر ذمہ داری سلیکٹرز اور سلیکٹڈ پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ پشتونخوا وطن کی جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑی ہے اور پڑے گی توباچاخان بابا کے پیرو کار اپنی جانوں کانذرانہ دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہم نے قربانیاں اپنی قوم اور اپنی وطن پر امن کیلئے دی ہے،پشتونخوا وطن کیلئے امن چاہتے ہیں اگر امن کی بات ہوتی ہے تو میرے خیال میں جب ہم اس کیلئے قربانی دے سکتے ہیں تو پھر ایک اور زہر کا گھونٹ ہے میرا ماننا نہ ماننا کوئی معنی نہیں رکھتا پاکستان میں جن لوگوں نے کام کرنا ہوتاہے وہ ہوچکاہوتاہے ہمیں پتہ ہے کہ کل اگر موقع ملے تو پھر ہم ہی نشانہ ہونگے لیکن ہم اپنے نظریہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تاہم کچھ سوالات ضرور اٹھائیں گے ٹی ٹی پی کے ساتھ اس سے قبل کتنے معاہدے ہوچکے ہیں جن میں سے بعض میں اے این پی بھی شامل تھی ان معاہدوں میں سے کتنے معاہدوں پر ٹی ٹی پی نے عمل کیاہے ہردفعہ تھوڑا ہے ہمارے بار بھی یہی ہوا تھا جس کے بعد سوات مالاکنڈ آپریشن کیا تین ماہ میں مالاکنڈ،سوات،دیر بونیر کلیئر کیا آئی ڈی پیز کو واپس کیا انہوں نے کہاکہ کہاجاتاہے کہ ایسے معاہدے ہیں جن کو شائع کرنے سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا میں تو یہ سوچ کرڈر رہاہوں کہ جب ان معاہدوں کوشائع کرنے سے نقصان ہورہاہے تو سوچ لیں کہ ان معاہدوں پر عمل کرنے سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچے گا انہوں نے کہاکہ صرف ٹی ٹی پی کا نہیں ٹی ایل پی کے ساتھ جو معاہدہ ہوا وہ معاہدہ کس نے کیا اور کہاں ہے؟ ہمارے وزیر داخلہ کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ مجھے معاہدے کا علم نہیں ہے تو معاہدہ کس نے کیا اور کیا معاہدہ کیاہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں اگر آپ نے کچھ کرناہے تو آپ کو مذہبی رنگ دیں جب مذہبی رنگ ملے گا تو آپ کو گنجائش اور رعایت ملے گی کھلے عام پولیس والوں کو قتل کرنے پر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا،انہوں نے کہاکہ پچھلے حکومت میں اے پی سی ہوا تھا اس وقت صوبے میں عمران نیازی اور مرکز میں نوازشریف کی حکومت تھی اس اے پی سی میں سیاسی جماعتیں،آرمی چیف سمیت ملکی اسٹیک ہولڈرز موجود تھے اس معاہدے میں فیصلہ ہوا تھا جس کو نیشنل ایکشن پلان کانام دیاگیا اورفیصلہ کیاگیاتھاکہ اس پر مکمل عملدرآمد ہوگا لیکن نیشنل ایکشن پلان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر پاکستان کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں اس سے ملک کو فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اے این پی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ان کے کیا فیصلے ہیں اور ریلی کب ہے اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے۔اے این پی بلوچستان میں حکومت میں اور وفاق وکے پی کے میں ہم اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اپوزیشن میں بیٹھنے کامطلب قطعاََ یہ نہیں کہ ہم پی ڈی ایم کا حصہ یا پھر پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں ہم نے اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کئے ہیں۔پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم سے متعلق واضح جواب مولانافضل الرحمن اور بلاول بھٹو دے سکتے ہیں البتہ یہ طے پایاہے کہ پارلیمان کے اندر اپوزیشن یکجا ہوکر الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور نیب سمیت دیگر پر اپوزیشن متحد ہوکر ایک لائحہ عمل طے کرے اور حکومت کو ایک ٹف ٹائم دیں گے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق فیصلہ پارٹی کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں