جھوٹ بولا ہے تو۔۔۔۔۔
تحریر: راحت ملک
اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد کی تقریب سے جناب عمران خان نے اہل قلم کومخاطب کرتے ہوئے کہا۔”آپ نہیں جانتے میں بتاتا ہوں اللہ نے پاکستان کو بارہ موسم دیے ہویے ہیں ” یہ بات وہ تین سال پہلے بھی بتاچکے ہیں معلوم ہوا تین سال میں ملک میں تبدیلی آئی نا خانصاحب کی کم علمی میں۔۔۔
ظفر اقبال کہتے ہیں
جھوٹ بولا ہے تو اس پہ قائم بھی رہو ظفر
آدمی کو صاحب ٍ کردار ہونا چاھیے۔
خاں جی اپنی دھن کے پکے ہیں بارہ موسم کا بیان دے چکے اب وہ اپنے جھوٹ سے مکرر یوٹرن لیں تو آفتاب اقبال بھی انکے صاحب ٍ کردار نہ رہنے پر معترض ہونگے۔
اس کانفرس میں شرکاء کو ملک بھر سے سرکاری دعوت پر مدعو کیا گیا تھا تقریب کے آغاز سے تین گھنٹے قبل مدعویں کو ہال میں بٹھایا گیا، انہیں طلب کرنے پر بھی پانی مہیا نہیں کیا گیا۔ یہ احتیاط بہت ضروری اور دور اندیشی کا مظہر تھی۔
قیاس تھا کہ شاید کو باعلم و باعمل مصنف اجتماعی دکھوں کے اظہار یا اپنی تڈلیل پر سیخ پا ہوجاتا اور خالی بوتل احتجاجاً وزیراعظم کی جانب اچھال دیتا۔ سو محتاط رہنے والی افسر شاہی نے اہل قلم کو پیاسا رکھنا مناسب سمجھا تقریب کے بعد بھی حاضرین و مدعوین کی چایے سیتواضع نہیں کی گئی کہ ملکی معیشت اس فضول خرچی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔۔۔۔
جناب وزیراعظم کی نشست پر سبز رنگ کا کپٹرا رکھا گیا تھا جسے بعض خاضرین نے اپنی دانست میں تعویز نما قرار دیا شاید اس سبر کپڑے پی کچھ کندہ کاری کی گئی تھی یا کچھ تحریر موجود تھی۔ جناب وزیراعظم کی آمد پر اس سبز کپڑے کو کرسی کی عقب کی جانب الٹ دیا گیا تھا۔۔ تبدیلی کے لیے کچھ تو کاوش ہونی چاھیے نا۔
اس موقع پر جناب عمران خان نے فرمایا
سلطنت روما اور فارس کو فتح کرنے کے بعد 150 مربع میل پر مشتمل پہلی اور وسیع اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی جو بزور تلوار نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر استوار تھی۔
نجانے مفتوحہ علاقوں کو بنا جنگ و جدل کیسے مطیع کیا گیا تھا؟ وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا تھا۔
سونامی تبدیلی زندہ باد
موسمیات۔تاریخ اور جغرافیہ کی ایسی تیسی۔!!!


