ہزارہ برادری ٹارگٹ کلنگ کیس، نیکٹا صرف ملکی وسائل ہڑپ رہا ہے، سپریم کورٹ
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہزارہ برادری ٹارگٹ کلنگ ازخودنوٹس کی سماعت عدالت نے نیکٹا سے انسداد دہشتگردی کیلئے کیے گئے کام کی تفصیلات مانگ لیں جبکہ عدالت عظمیٰ نے بازیاب شہریوں کے بنک اکاونٹس منجمد کرنے کا ریکارڈ طلب اورنیکٹا حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیکٹا صرف ملک کے مالی وسائل کو چوس رہا ہے۔منگل کو سپریم کورٹ میں ہزارہ برادری کوئٹہ کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی درخواست پر عامر احمد سمیت دیگر افراد کے نام فورھ شیڈول میں ڈالے گئے تھے،24 نومبر کو ریویو بورڈ کے اجلاس میں ان افراد کے ناموں پر دوبارہ غور ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کی آزادی سپریم کورٹ یوں سلب نہیں کر سکتی ہے۔عدالت عظمیٰ نے ڈی جی کاؤنٹر ٹیرارزم کو روسٹم سے ہٹاتے ہوئے کہا کیوں نہ آپکو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں۔ ممبر نیکٹا آصف سیف اللہ نے عدالت کو بتایا کہ فورتھ شیڈول میں نام ڈالنے کا فیصلہ صوبائی حکومت کرتی ہے۔نیکٹا ریسرچ کرتے ہیں اور ماہرین سے آرٹیکلز لکھواتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیکٹا کا کوئی بھی کام خفیہ نہیں ہو سکتا ہے جو کچھ آج تک کیا ہے سب بتائیں۔


