پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا پانی کی شدید قلت اور شہریوں کو درپیش مسائل پر افسوس کا اظہار
کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کوئٹہ شہر میں پانی کی شدید قلت اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت بالخصوص محکمہ واسا شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس کے باعث شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور شدید اذیت سے دوچار ہوگئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ پہلے ہی ٹینکرز مافیا کے سامنے مکمل بے بس ہوچکی تھی ضلعی انتظامیہ نے ٹینکرز مافیا کی جانب سے ہر علاقے کی سطح پردی گئی قیمتوں کو من وعن وہاں کے شہریوں پر مسلط کردیا اور شہری مجبوراً انہی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں پانی خریدنے پر مجبور ہوگئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہرکے مختلف شاہراہوں بالخصوص گلی محلوں کی سطح پر ٹریفک کے مسائل،کم عمر بغیر لائنس ناتجربہ کار ڈرائیور وں کے ذریعے ٹریکٹرز چلانے اور ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں بالخصوص معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے شہریوں میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت تو شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے عدالت عالیہ محکمہ واسا اور پی ایچ ای کے تمام بند وغیر فعال ٹیوب ویلوں کو فعال بنانے، تیار ٹیوب ویلوں کو پی ایچ ای یا واسا کے ہینڈ اوور کرنے کے سختی سے ہدایات کریں کہ وہ شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائیں کیونکہ محکمہ واسا کی جانب سے اکثر بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی،بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹیوب ویل کی مشینری خراب ہونے،کیسکو کی جانب سے ٹرانسفارمر لیجانے کے حیلے وبہانے کیئے جاتے ہیں جبکہ گھر گھر دیئے گئے نلکوں میں کئی کئی روز، ہفتے اور مہینے بھی پانی کا قطرہ تک نہیں آتا۔ دوسری جانب سے واسا کی جانب سے ہفتہ اتوار کی چھٹی کے باعث بھی شہریوں کو پانی فراہم نہیں کیا جاتا واسا حکام کی اپنی مرضی کے مطابق بعض علاقوں میں آئے روز پانی کی فراہمی جاری رہتی ہے اور بعض علاقوں میں میں ہفتے میں صرف دو یا تین کم پریشر کے ساتھ پانی صرف آدھے گھنٹے کیلئے فراہم کیا جاتا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واسا اور پی ایچ ای کے ٹیوب ویلوں کو فعال کرکے اور ٹریکٹر ٹینکرز کے ذریعے کامیاب مذاکرات کرکے شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔


