اپوزیشن کا قومی اسمبلی کا ریکوزیشن اجلاس بلانے کا مطالبہ

اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے، قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن کے 98 ارکان نے ریکوزیشن پر دستخط کیے ہیں۔قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ورچوئل اجلاس کو مسترد کرتے ہیں، قومی اسمبلی کا ریکوزیشن اجلاس بلایا جائے اور کورونا سے نمٹنے کی تیاریوں اور حکومتی اقدامات سے متعلق بتایا جائے۔اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اب تک ملنے والی امداد اور رعایتوں کی مانیٹرنگ سے آگاہ کیا جائے اور اب تک کورونا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اخراجات سے ایوان کو بتایا جائے جبکہ ٹائیگر فورس، نقدرقم کی فراہمی میں اس کے کردار سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائے۔مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ آٹا، چینی قیمتوں میں اضافے اور ایف آئی رپورٹ پر اقدامات سے متعلق بتایا جائے، قومی اسمبلی کے پارلیمانی دن پورے کرنے کے حکومتی منصوبے پراعتماد میں لیا جائے اور بجٹ پر تفصیلی بحث اور منظوری مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہونے سے متعلق یقین دہانی کرائی جائے۔ریکوزیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ارکان اور عملے کی حفاظت کے اقدامات یقینی بنائے جائیں، قومی اسمبلی ہال میں 450 افراد کی گنجائش ہے، قومی اسمبلی کی گیلریوں کو ملا کر 800 افراد کی گنجائش ہوجاتی ہے۔اپوزیشن کی ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ ارکان کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ برقرار کر کے اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں