سی پیک کے تحت بلوچستان میں اس طرح ترقیاتی کام نہیں کئے گئے جس طرح کی ضرورت تھی، چیئرمین سی پیک پارلیمانی کمیٹی
کوئٹہ:سی پیک کے پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ارباب شیر علی خان نے کہاہے کہ سی پیک کے تحت بلوچستان،آزادکشمیر اور گلگت میں اس طرح ترقیاتی کام نہیں کئے گئے جس طرح کی ضرورت تھی کیونکہ سی پیک جیسے منصوبے نظرانداز علاقوں کی ترقی کیلئے اہم ہوتی ہیں سی پیک اہم ہے جس میں رسک نہیں لیاجاسکتاہمیں اپنے آپ کو آرگنائز کرنے کی ضرورت ہے پاکستان تب ترقی کرے گا جب فیڈریشن کے تمام اکائیوں کو حصہ ملیں اور نظرانداز علاقوں پر توجہ دی جائیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت مل کر مسائل کاادراک کرتے ہوئے وسائل بروئے کار لائیں ہم بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آواز بن کر ان کا حق دلائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں سی پیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرصوبائی وزیر پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ میر ظہوراحمدبلیدی، تاجر برادری،صوبائی حکام ودیگر بھی موجود تھے۔پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین شیر علی ارباب نے کہاکہ سی پیک پارلیمانی کمیٹی کے بدولت بہت سے ایسے جگہ دیکھی جہاں پہلے ہم نہیں گئے تھے لوگوں کے ساتھ ملے اسلام آباد ایک جزیرہ ہے جہاں سے پھر حقیقت کا اندازہ صحیح نہیں ہوتا،اصل اسٹیک ہولڈرز ریجنل ہیں سی پیک مقامی لوگوں کی ترقی سے ممکن ہوگا انہوں نے کہاکہ بلوچستان،گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر پر سی پیک میں دیگر علاقوں سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے لیکن حالات اس کے برعکس ہے بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت میں سی پیک کے اتنے پروجیکٹس نہیں جتنی ہونی چاہیے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ لوگ ناراض ہوں یہ فطری عمل ہے انہوں نے کہاکہ کوئی پروجیکٹ نہیں ہوتا جہاں مسائل نہ ہوں مشکلات آتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مشکلات کے حل کیلئے اقدامات اٹھائی جائیں،درپیش مشکلات ومسائل کو متعلقہ محکموں کے ساتھ اٹھائیں گے سی پیک اہم ہے جس میں رسک نہیں لیاجاسکتا جب تک ہم اپنے آپ کو آرگنائز نہیں کرینگے اور نظرانداز صوبوں کے مسائل کو نشاندہی نہیں کرینگے چین سپورٹ تاحیات نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو آرگنائز کرے اور لوگوں کی محرومیاں اور تحفظات سے مسائل جنم لیتے ہیں انہوں نے کہاکہ تینوں علاقوں میں یہی مسائل درپیش ہیں پاکستان تب ترقی کرے گا جب فیڈریشن کے تمام اکائیوں کو حصہ ملیں اور نظرانداز علاقوں پر توجہ دی جائیں ترقیاتی بجٹ گروتھ بڑھاتی ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک جیسے منصوبے نظرانداز علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے اہم ہوتے ہیں سی پیک کے 50فیصد مقصد کے حصول سے پاکستان کا چہرہ تبدیل کیاجاسکتاہے اسپیشل اکنامک زونز کی بحالی اور سرمایہ کاروں کی شرکت سے اکنامک ترقی میں انقلاب برپا ہوگا،جب چین کا شین جن جو ایک چھوٹا سے قصبہ ہے بزنس حب بن سکتاہے تو پھر گوادر کیوں نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت مل کر مسائل کاادراک کرتے ہوئے وسائل بروئے کار لائیں ہم بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آواز بن کر ان کا حق دلائیں گے۔بلوچستان سے تجاویز کمیٹی کے آئندہ اجلاسوں میں فالو اپ کیاجائے گا جس کی رپورٹ مرتب کرکے وزیراعظم سمیت دیگر کو پیش کی جائیگی۔


