سوراب، وزیراعلیٰ کے احکامات کے باوجود چیک پوسٹ قائم، بھتہ خوری کا سلسلہ جاری

سوراب:وزیر اعلی کی جانب سے شاہراہوں پر غیرضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے اور بھتہ وصولی کے مسلسل اعلانات کے باوجود سوراب میں کسٹم اور ایکسائز کے نام پر ناکوں کی بھرمار اور سرعام بھتہ خوری کا جاری سلسلہ حکومتی اعلانات کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے، سوراب میں مقرر بھتے کے عوض کسٹم کی سرپرستی میں ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کی چھوٹ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے مگر پوچھنے والا کوئی نہیں، رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے صوبے کے شاہراہوں پر غیرضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے مسلسل اعلانات کی گونج سنائی دے رہی ہے دوسری جانب سوراب میں کسٹم اور ایکسائز کے نام پر جابجا قائم چیک پوسٹیں اور وہاں سرعام بھتہ وصولی کا جاری سلسلہ ان اعلانات کی نفی کرتا دکھائی دے رہا ہے،سوراب میں آرسی ڈی قومی شاہراہ پر قائم کسٹم چیک پوسٹ سے مقرر بھتے کے عوض ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کی کھلی اجازت جبکہ گدر میں پیرحیدرشاہ پر ایکسائز کے نام پر قائم ناکے پر پرائیویٹ افراد کے زریعے بھتہ وصولی آفیسران کے لئے منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جہاں مجموعی طور روزانہ لاکھوں روپے کی رقم جمع کی جاتی ہے، کوئٹہ سیکراچی اسمگلنگ کی جانے والی منشیات کا سوراب سے باسانی گزر کر آئے روز خضدار لیویز کے ہاتھوں برآمدگی سوراب میں کسٹم چیک پوسٹ کی موجودگی پر سوالیہ نشان ہے، علاقے کے عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ضروری چیک پوسٹوں کے اعلان پر سوراب میں بھی عملدرآمد یقینی بناکر کسٹم اور ایکسائز کی بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں