یوسف مستی خان کی گرفتاری آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ
کوئٹہ:نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ وبلوچ بزرگ قوم پرست رہنماء ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ نے بلوچ قوم پرست بزرگ رہنماء میر یوسف مستی خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ میر یوسف مستی خان کی گرفتاری آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،ایسے اقدامات سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوں گے،گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات کے حل کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،پاکستان میں آئین کا آٹیکل 8 سے 28 فرد کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرتا ہے مگر یہاں بھی انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے، حقوق کے تحفظ کیلئے بیشمار قوانین اور ادارے موجود ہونے کے باوجود قانون کی حکمرانی کی صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ نے کہاکہ آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایاجارہاہے لیکن بدقسمتی سے آئین جو آٹیکل 8 سے 28 تک لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرتا ہے اس کی نہ صرف خلاف ورزی کی جارہی ہے بلکہ میر یوسف مستی خان کی گرفتاری آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،انہوں نے کہاکہ تمام دنیا خاموش تماشائی بنی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی ہے۔ پاکستان میں آئین کا آٹیکل 8 سے 28 فرد کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرتا ہے مگر یہاں بھی انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے، حقوق کے تحفظ کیلئے بیشمار قوانین اور ادارے موجود ہونے کے باوجود قانون کی حکمرانی کی صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش ہے، اساتذہ، ڈاکٹرز اور نابیناوں سمیت ہر شعبے کے افراد کو اپنے حقوق کی خلاف ورزیوں پر سڑکوں پر آکر اپنے حق کیلئے لڑنا پڑتا ہے مگر انہیں ریلیف نہیں ملتا انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے، حقوق کے تحفظ کیلئے بیشمار قوانین اور ادارے موجود ہونے کے باوجود قانون کی حکمرانی کی صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔


