غربِ اردن،فلسطینی خاتون نے الخلیل میں اسرائیلی آبادکارکو چاقوگھونپ دیا

مقبوضہ بیت المقدسL:اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع شہر الخلیل میں ایک متنازع مقدس مقام کے نزدیک ادھیڑ عمر فلسطینی خاتون نے ایک یہودی آباد کار پرچاقو سے وار کیا ہے جس کے نتیجے میں وہ معمولی زخمی ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ حملہ مسلمانوں کے مقدس مقام مسجد ابراہیمی کے نزدیک کیا گیا۔یہود بھی اس کو مقدس غاروں کی نسبت سے اپنے لیے مقدس خیال کرتے ہیں۔اس لحاظ سے یہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے قابل احترام جگہ ہے۔اسرائیل کے سرحدی محافظوں کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ انھوں نے حملہ آور65 سالہ فلسطینی خاتون کو قریبی گاؤں سے گرفتارکرلیا ہے۔زخمی یہودی آبادکارقریبی بستی کریات عربہ کا 38 سالہ رہائشی تھا۔گذشتہ ایک ماہ سے غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان تشدد اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ان جھڑپوں کے دوران میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی ہلاکتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک قریبا سات لاکھ یہودی آبادکار مغربی کنارے اور مشرقی یروشلیم میں واقع بستیوں میں بسائے جاچکے ہیں۔امریکا کے سواعالمی برادری ان یہودی بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں