عدالت عالیہ نے شکایات پر چیف سیکرٹری و آئی جی پولیس بلوچستان کو طلب کر لیا
کوئٹہ:عدالت عالیہ بلوچستان نے حکومت بلوچستان کے سرعت کے ساتھ تقرریوں و تبادلوں کی شکایات و سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے مختلف مقدمات میں عمومی بنیادی رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کی شکایات پر چیف سیکرٹری و آئی جی پولیس بلوچستان کو طلب کرلیا جبکہ تقرری و تبادلوں کے حوالے سے دائر دو آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، جمعہ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے چیف سیکرٹری و آئی جی پولیس کو ذاتی طور پر طلب کرکے باقاعدہ سیرحاصل بحث کے ذریعے انہیں انیتا تراب کیس PLD 2013 SC 195&بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے منیراحمد خان کاکڑ PLC 2020 Bln 58 کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 189/190/201 کے تحت اس سے روگردانی کے مضمرات سے آگاہ کرتے ہوئے کیس کو محفوظ کرنے سے قبل سرکاری وکیل شہک بلوچ و چیف سیکرٹری مطہر رانا کو 5 جنوری 2022 تک مزید تحریری یا زبانی دلائل کا اضافی وقت دے دیا ہے،اسی طرح خود مختار اداروں میں تقررو تبادلے کے لئے بھی جمعہ دو آئینی درخواستوں عبدالکریم بنام حکومت بلوچستان اورخالد سعید بنام حکومت بلوچستان کے اندر سپریم کورٹ کے فیصلے محمد مبین اختر بنام حکومت پاکستان وغیرہ کے تناظر میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا دونوں مقدمات محکمہ بلدیات سے متعلق تھے جس کے لئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ علی اکبر بلوچ و لوکل گورنمنٹ بورڈ کے ڈی جی شخصی طور پر طلب کئے گئے تھے فریقین کے نادر چھلگری و رانا عامر درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل تھے جبکہ مدعاعلیہ کی طرف سے امان اللہ کنرانی و شہک بلوچ و محمد علی رخشانی پیش ہوئے عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا


