میڈیکل طلباء کے ساتھ پی ایم سی کی ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہیں،بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لاہور
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام پالیسیوں کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو بلوچستان کے طلباء کیلئے تعلیم حاصل کرنے کے راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پچھلے 20 روز سے بلوچستان کے میڈیکل کے طلباء اپنے حقوق اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے ناجائز رویہ کے خلاف شدید سردی کے موسم میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ اس عالم میں متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کو تعلیم دشمن پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
میڈیکل کے طلباء ایک مرتبہ ٹیسٹ پاس کرکے سیٹس اپنے نام کر چکے ہیں لیکن پی ایم سی کی جانب سے نام نہاد اسپیشل ٹیسٹ طلباء کو ذہنی دباؤ میں لانے اور انہیں تعلیم سے دور رکھنے کی سازش ہے۔ وہ طلباء جنہوں نے دو تین سال کی محنت سے میڈیکل ٹیسٹ پاس کیا ہے ان سے دوبارہ ٹیسٹ لینا زیادتی ہے اور انہیں ذہنی دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت اور اس ٹیسٹ کی فوری طور پر کینسلیشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنے اور ان کو تعلیم سے دور رکھنے کے مختلف حیلے بہانوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ کبھی اسکالرشپس تو کبھی کوٹہ کو منسوخ کیا جاتا ہے جو طلباء کے ساتھ ناانصافی اور مایوس کن رویہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ میڈیکل کے متعلقہ اداروں اور حکومت بلوچستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیکل طلباء کے خدشات کو جلد از جلد دور کرکے PMC کے اسپیشل ٹیسٹ کو منسوخ کر کے نئے میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم طلباء کو پی ایم سی میں رجسٹر کیا جائے۔


