ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے مفادات کا خیال نہ رکھنے پر مخالفت کرینگے، عارف محمد حسنی
دالبندین: چاغی سے منتخب بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی میر محمدعارف محمدحسنی نے کہا ہے کہ ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے میں اگر بلوچستان اور چاغی کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا تو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ریکوڈک منصوبہ ایک قومی خزانہ ہے جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے لیکن افسوس کہ اس منصوبے سے ابھی تک فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے ریکوڈک منصوبے پر کام شروع کرنے کے متعلق ایک مجوزہ معاہدے کی بازگشت چل رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس قومی خزانے سے استفادہ کرنا چاہیے لیکن ماضی کے برعکس بلوچستان اور خود چاغی کو بھی اس منصوبے سے فائدہ ملنا چاہیے بصورتِ دیگر ہم ایسے معاہدے کی بھرپور مخالفت کرکے عوام کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے حصول کی پرامن و جمہوری تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریکوڈک منصوبے سے حاصل شدہ تمام قسم کے مراعات اور ملازمتوں میں چاغی کو سرفہرست رکھنا چاہیے تاکہ وسیع رقبے پر پھیلے اس علاقے میں بیروزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ہمیں اپنے وسائل سے محروم رکھا گیا تو عوام کا ردعمل شدید ہوگا۔


