پیما کا میڈیکل طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی

کوئٹہ:پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) بلوچستان کے وفد نے صوبائی صدر ڈاکٹرسرورپرکانی کی قیادت میں بلوچستان کے تین میڈیکل کالجزکے مسائل کے سلسلے میں پریس کلب کے سامنے احتجاج پر بیٹھے لورالائی،مکران،جھالاوان میڈیکل کالجزکے احتجاجی کیمپ میں اظہار یکجہتی کیلئے گیا وفد میں پیما کے مرکزی نائب صدرڈاکٹرعطاء الرحمان،ڈاکٹرمحمد ابراہیم ودیگر ذمہ داران بھی موجودتھے پیما بلوچستان کے وفدنے اس موقع پر میڈیکل کالجزکے احتجاجی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں جائز مطالبات کیلئے ہماری جدوجہد آپ کیساتھ ہمیشہ ہوگی۔انہوں نے پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے تین نئے میڈیکل کالجز کے لیے امتیازی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ PMC کی جانب سے کسی بھی کالج کو تسلیم کرنے کے لیے مذکورہ کالج کا معائنہ کیا جاتا ہے اور فیکلٹی کے معیار کو دیکھ کو اسے recognize کیا جاتا ہے۔ کالج کے ساتھ ساتھ تمام بیچز (batches) کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے کالجز کے بارے میں اس طے شدہ طریقے کے برخلاف قوانین میں تامیم کے ذریعے طلبہ پر اضافی امتحان کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ خودساختہ اصولوں کی بنیاد پر پالیسیاں ناقابل فہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی کے مطابق طلباء پر اضافی امتحان کا بوجھ ڈال کر فیل ہونے والے طلبہ کو deseat کرنا کہیں بھی کمیشن کے قواعد و ضوابط میں شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ کے قیمتی تین یا چار سال ضائع ہو جائیں گے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کا یہ رویہ طلبہ میں شدت پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ بلوچستان کے طلبہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے ساتھ یہ امتیازی رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔ کئی دنوں سے بلوچستان کے طلبہ اپنے کالجز میں جانے کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی پیما بلوچستان کے طلبہ کے جائزمطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور حکومت، سپریم کورٹ اور تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس امتیازی پالیسی کا نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں