گندم کی بین الاضلاع نقل وحرکت پر پابندی قبول نہیں،ایوان صنعت و تجارت

کوئٹہ:ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر غلام فاروق خلجی،سنیئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ،نائب صدر داد خان خلجی، چیئر مین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انڈسٹریز عبدالواحد بڑیچ نے وزارت خوراک بلوچستان کی تجویز پر صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے گندم کی بین اضلاع نقل و حرکت پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر کیا جانے والا فیصلہ ہمیں منظور نہیں بلکہ اس سے ایک مرتبہ پھر گندم اور آٹا بحران پیدا ہوگا،وزیر اعلیٰ بلوچستان مقامی فلور ملز مالکان کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دے تاکہ فلور ملز اسٹاک اور عوامی ضروریات کو پورا کر سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہے تاہم بلوچستان کی نصیر آباد و جعفرآباد اور ملحقہ علاقوں سے ملنے والی گندم مارکیٹ میں ہے جو فلور ملز کو خام مال کی صورت میں ضرورت بھی ہے لیکن گندم کی بین اضلاع پابندی کی وجہ سے مذکورہ علاقوں سے گندم کی فلور ملز کو پہنچ ممکن نہیں ملز مالکان اپنی ضرورت کے مطابق گندم کی خریداری کرتے اور اسے اسٹاک کرتے ہیں اب حکومتی اقدام سے فلور ملز مالکان کے لئے خریداری کے بعد گندم ملز تک لے جانے اور اسٹاک بنانا بھی نا ممکن ہو گیا ہے اس سے مارکیٹ میں گندم اور آٹا کے ریٹس میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گا بلکہ مقامی فلور ملز انڈسٹری بھی بند ہو گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے زمینداران کو بھی صحیح ریٹس نہ ملنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ خریدار تو گندم خریدنے سے رہا صرف سرکار ہی اپنے من مانے ریٹس سے گندم کی خریداری کریگی۔ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں فلور ملز کو گندم کی بین اضلاع پابندی سے مستثنیٰ قرار دے کر گندم خریداری کا موقع دیا جائے تاکہ مقامی فلور ملز مالکان اسٹاک کے ساتھ صوبے کی عوام کے لئے درکار گندم کی ضرورت کو پورا کر سکے اس سے گندم اور آٹا کی قیمتوں میں استحکام رہے گا بلکہ عوام کو گندم اور آٹا بھی بآسانی دستیاب ہوگا ایسا نہ کیا گیا تو صوبے میں گندم اور آٹا کی شارٹیج اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور لوگ ایک مرتبہ پھر گراں داموں گندم کی خریداری پر مجبور ہوں گے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی کسی بھی صورتحال کی زمہ دار وزارت خوراک اور صوبائی حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں فلور ملز کو گندم کی فراہمی کے لئے ایک میکینزم بنایا گیا ہے مگر یہاں ایسا نہیں جو قابل افسوس ہے۔


