مری،برفباری کا سلسلہ تھم گیا،برف ہٹانے کا کام جاری

مری:ملکہ کوہسار مری میں برفباری کا سلسلہ تھم جانے کے بعد آج دھوپ نکل آئی ہے لیکن سردی کی شدت میں کوئی کمی نہیں ہوئی، جب کہ تمام اہم سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے، سانحہ مری میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی۔

گزشتہ روز ہفتہ 8 جنوری کو سانحہ مری میں اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، پنڈی، مردان اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کو طوفانی برف باری نے موت کی آغوش میں پہنچا دیا۔ سانحے میں جاں بحق افراد کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سانحے میں جاں بحق اے ایس آئی نوید اقبال سمیت ان کے گھر کے 8 افراد کی میتیں مری سے اسلام آباد پہنچائی گئیں۔ نوید اقبال کی بیٹی شفق، دعا، اقراء، بیٹے احمد کے علاوہ ان کی بہن قرۃ العین، بھانجی حوریہ اور بھتیجے آیان کی میت بھی اسلام آباد پہنچائی گئی۔

ان 8 افراد کی نمازِ جنازہ آج ڈھائی بجے تلہ گنگ کے موضع دودیال میں ادا کی جائے گی اور تدفین مقامی قبرستان میں ہوگی۔ لاہور کے رہائشی ظفر اقبال اور ان کے کزن معروف کی میتیں بھی آج صبح گھر پہنچا دی گئیں۔مری میں داخل ہونے پر پابندی تا حال برقرار ہے، تاہم ايمرجنسی وہيکلز کے ليے راستہ کھولا جا رہا ہے، بھارہ کہو اور ٹول پلازہ پر لگائے گئے ناکوں پر موجود سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے غیر متعلقہ ٹریفک کو روک رہی ہیں۔

ملکہ کوہسار مری میں برفباری کا سلسلہ تھم جانے کے بعد آج وہاں دھوپ نکل آئی ہے لیکن سردی کی شدت میں کوئی کمی نہیں ہوئی، انتظامیہ کاتمام اہم سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام اور پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کیلئے آپريشن جاری ہے، لوگوں کی مدد کیلئے پاک آرمی نے کلڈنہ میں ریسکیو سینٹر قائم کردیا۔مری جانے والے راستے ایکسپریس وے پر پھلسن میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوجی انجینیرز کے دستے بلڈوزر کی مدد سے گلڈنہ اور باریاں روڈ سے برف ہٹارہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق کیمپوں میں لوگوں کو کھانا، پانی، چائے اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جارہا ہے، ایف ڈبلیو او کے جوان بھی مشینری کی مدد سے روڈ کھولنے میں مصروف عمل ہیں۔دوسری جانب مسلسل برف باری کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش آرہی ہیں، چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آپریشن کب تک مکمل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں