حب،شہر میں ایک بار پھر ٹریفک جام،شہریوں سمیت صنعتی عملے اور محنت کشوں کو سخت ذہنی اذیت کا سامنا

حب: حب شہر میں ٹریفک جام ایک بار پھر معمول بن گیا،شہریوں سمیت صنعتی عملے اور محنت کشوں کو سخت ذہنی اذیت کا سامنا، دو بائی پاسسز بننے کے باوجود حب شہر پر ٹریفک کا دباؤ برقرار، مقامی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کار وائیاں فو ٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گئیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری، نو پا رکنگ ایر یا میں جگہ جگہ کھڑی گا ڑیاں، ریڑھی اور ٹھیلے والے ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ،سڑک عبور کرنے والے معمر اور ضعیف مرد و خواتین سمیت طلباء و طالبات کو مشکلات درپیش،تفصیلات کے مطابق حب شہر میں د ن میں بار بار ٹریفک جا م کے مسائل نے شہریوں اور ٹرانسپورٹروں کو سخت مشکلات میں ڈال رکھا ہے ٹریفک جام کے باعث نہ صرف حب شہر کی مقامی گاڑیوں اور پیدل چلنے والے شہریوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ حب و وندر کی صنعتوں کے اسٹاف اور ہزاروں محنت کشوں سمیت گڈانی کے شپ بریکرز،محنت کشوں اور اندرون بلوچستان سے کراچی اور کراچی سے اندرون بلوچستان چلنے والی ٹریفک کوحب شہر سے گزرتے ہو ئے شدید مشکلات کا سامنا ہے یہی نہیں بلکہ ٹریفک میں پھنسی ایمبولینسزمیں مریضو ں،مسافر کوچز میں سوار مرد و خواتین اور بچوں کو بھی سخت ذہنی ازیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری جانب ضعیف مرد و خواتین اور اسکولوں کے بچے بچیوں کو بھی سڑک عبور کرتے ہوئے سخت پریشانی ہوتی ہے شہر کے وسط سے گزرنے والی قومی شاہراہ پر ہمہ وقت گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں سڑک کے کنارے کھڑی ریڑھی اور ٹھیلے والے ٹریفک کی روانی رکا وٹ بنے ہو ئے ہیں یہی نہیں بلکہ سڑک کے دونوں اطراف درجنوں نو پارکنگ ایر یا میں کھڑی گاڑیوں سمیت پان چھا لیہ کے کھوکھے بھی سڑک کنا رے پر رکھے ہوئے ہیں دوسری جانب اندرون بلوچستان چلنے والی مسافر کوچز کا عملہ بھی اپنے دفاتر کے سامنے ٹیبل کرسی رکھ کر بیٹھا رہتا ہے ریڑھی والوں ٹھیلے والوں،پان کے کھوکھے والوں اور کوچز والوں کے دفاتر کے سامنے غیر قانونی طو ر پر کرسی ٹیبل رکھنے والوں کے خلا ف کا روائی کرنے والا کو ئی انتظا میہ اور ٹریفک پویس کی ناقص کار کردگی کے باعث ٹریفک کا مسئلہ عوام کے لئے عذاب بنا ہوا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں