ڈیرہ اللہ یار، کھاد بحران کے خلاف نیشنل پارٹی کا احتجاج، قومی شاہراہ بلاک
ڈیرہ اللہ یار: ڈیرہ اللہ یار میں کھاد بحران کے خلاف نیشنل پارٹی نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ بلاک کر دی انتظامیہ نے کھاد کی پانچ دکانوں کو سیل کر دیا کھاد ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کھاد کمپنیاں مطلوبہ سپلائی نہیں دے رہی ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا جا رہا ہے جمعہ کو نیشنل پارٹی نے کھاد بحران کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر صحبت پور چوک کے مقام پر قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جاسکے باعث ہر قسم کی ٹریفک بند ہوگئی نیشنل پارٹی کے رہنماوں کامریڈ نواز کھوسہ، راوت بلوچ، کامریڈ رفیق کھوسہ، جماعت اسلامی بلوچستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری انجنیئر عبدالمجید بادینی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلع صدر احسان احمد کھوسہ معروف زمیندار میر نصیب اللہ کھوسہ و دیگر کا کہنا تھا کہ کھاد ڈیلرز کی من مانی اور زیادہ منافع کمانے کے چکر میں کھاد کا بحران پیدا کیا گیا ہزاروں کاشتکار کھاد کے لیے پریشان ہیں انکی فصلات کو نقصان ہو رہا ہے نیشنل پارٹی کے احتجاج میں جماعت اسلامی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالمجید بادینی اور مٹھا خان بادینی نے بھی کارکنوں کے ہمراہ شرکت کی اور کہا ہے کہ محکمہ زراعت کھاد کا بحران ختم کرنے اور بلیک مارکیٹنگ روکنے میں ناکام ہوچکا ہے ڈیلرز مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں کاشتکار مطلوبہ رقم دینے کے باوجود کھاد سے محروم ہیں کھاد بحران اور بلیک مارکیٹنگ ختم نہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد رزاق خان خجک نے کھاد ڈیلرز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا حکم جاری کر دیا اسسٹنٹ کمشنر بلال شبیر نے کھاد کی پانچ دکانیں سیل کر دی ہیں ڈپٹی کمشنر رزاق خان خجک نے کہا کہ کھاد ڈیلرز نے بحران اور بلیک مارکیٹنگ ختم نہیں کی تو ڈیلرز کے لائسنس معطل کر دینگے۔


