اسلام آباد کانفرنس میں سب کو عزت دی گئی، صادق عمرانی کو معافی مانگنی چاہیے، فرح عظیم شاہ

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی کے باعث بعض سوالات کو مخر کردیا گیا، جبکہ غیر قانونی ٹرالنگ، اندرون ملک فضائی رابطوں، منشیات کے خاتمے، کینسر کے علاج، سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور دیگر امور سے متعلق قراردادیں پیش کرکے منظور کرلی گئیں۔اجلاس کے دوران محکمہ ماہی گیری میں غیر قانونی ٹرالنگ کے حوالے سے توجہ دلا نوٹس رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے پیش کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ماہی گیری غیر قانونی ٹرالنگ روکنے میں ناکام ہوچکا ہے اور سندھ سے آنے والے ٹرالر بلوچستان کے ساحل سے سالانہ تقریبا 200 ارب روپے کی مچھلی لے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے ساحل کو بانجھ کرنے کے بعد ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں آکر مچھلی کا شکار کررہے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے ماہی گیری برکت رند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں 20 سے زائد ٹرالر پکڑے گئے ہیں اور بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ حکومتی یقین دہانی پر توجہ دلا نوٹس نمٹا دیا گیا۔رکن اسمبلی اسد اللہ بلوچ نے پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب سے اندرون ملک پروازیں چلانے سے متعلق قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث عوام کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے اور اندرون ملک فضائی رابطوں کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان اسمبلی نے قرارداد منظور کرلی۔ایوان نے سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کی تحقیقات سے متعلق قرارداد بھی منظور کرلی۔ قرارداد رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے پیش کی۔ اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن نے سندھ پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سندھ پولیس بلوچستان کے عوام کو ہراساں اور لوٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کراچی گئے تو سندھ پولیس ان کے پیچھے بھی پڑ گئی۔رکن اسمبلی نور محمد دومڑ نے زیارت روڈ پر سڑک تعمیر کرنے والے کیمپ پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے تعمیراتی مشینری کو آگ لگائی اور مزدوروں کو اغوا کیا۔ انہوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی کے خلاف گزشتہ اجلاس میں مبینہ نامناسب الفاظ کے استعمال پر مشترکہ مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ قرارداد صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میر صادق عمرانی کے الفاظ سے بلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی، جبکہ اسلام آباد کانفرنس میں بلوچستان کے لوگوں کو عزت دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جسے ان کی جماعت نے پارلیمانی لیڈر بنایا وہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ کہتے ہیں۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ صادق عمرانی نے بلوچستان کے عوام اور اسلام آباد جانے والے وفد کی دل آزاری کی، اس لیے گزشتہ اجلاس میں استعمال کیے گئے متنازع الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کیے جائیں۔فرح عظیم شاہ نے کہا کہ اسلام آباد کانفرنس میں سب کو عزت دی گئی، صادق عمرانی نے نامناسب الفاظ استعمال کیے، انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اسلام آباد کانفرنس میں بلوچستان کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ پہلی کانفرنس تھی جس میں وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ صادق عمرانی کانفرنس میں موجود ہی نہیں تھے، اس لیے انہیں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔دوسری جانب نور محمد دومڑ نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں بعض سیاسی عناصر دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں اور انہیں بھتہ، خوراک اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا محاسبہ ہونا چاہیے اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ریاست اور عوام کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔میر صادق عمرانی نے اپنے مقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ حق کی بات کی ہے، دہشت گردی کے خلاف لڑے ہیں اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مقف پر قائم ہیں اور اپنے اداروں کا دفاع کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کی تقریر کے دوران بخت محمد کاکڑ کی مداخلت پر دونوں وزرا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعدازاں اسپیکر نے صادق عمرانی کے متنازع الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کرا دیے۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے مزید الزام عائد کیا کہ جس رکن کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی، انہوں نے اسمبلی ہال کے باہر رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ سے بھی مبینہ بدتمیزی کی، اس واقعے کا بھی نوٹس لیا جانا چاہیے۔اجلاس میں صوبے میں منشیات کے عادی نوجوانوں کے لیے بحالی مراکز کے قیام سے متعلق قرارداد بھی مولانا ہدایت الرحمن نے پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد منشیات کی عادی ہورہی ہے، اب لڑکیاں بھی منشیات استعمال کررہی ہیں اور صوبے میں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے کے عوام اسکول، اسپتال اور بجلی نہیں مانگ رہے بلکہ منشیات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں کینسر کے علاج کے لیے معیاری اسپتال کے قیام سے متعلق قرارداد بھی منظور کرلی۔ قرارداد رکن اسمبلی سید ظفر آغا نے پیش کی۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ایوان کو بتایا کہ کینسر کے علاج کے لیے 250 بستروں کا اسپتال تیار ہے، تاہم اسپتال کے لیے مشینری کی خریداری پر تقریبا 8 ارب روپے درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ سے آٹھ ماہ کے اندر مشینری منگوا کر اسپتال کو فعال کردیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون بھی ایوان میں پیش کیا۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے مطالبہ کیا کہ مسودہ قانون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو قانون کی منظوری میں اتنی جلدی کیوں ہے اور وزیر داخلہ کو اس معاملے میں عجلت کی وجہ ایوان کو بتانی چاہیے۔اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود بلوچستان اسمبلی نے رائے شماری کے بعد انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون منظور کرلیا۔اجلاس کے دوران مختلف معاملات پر ارکان کے درمیان شدید بحث اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم اسپیکر کی مداخلت سے کارروائی جاری رہی۔ بعدازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے اجلاس 5 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں