حکمران اسلام سے انحراف بند کریں، قرآن وسنت سے متصادم قانون سازی ختم کی جائے،مولاناعبدالحق ہاشمی

کوئٹہ: صدرملی یکجہتی کونسل بلوچستان مولاناعبدالحق ہاشمی،جنرل سیکرٹری سیدمومن شاہ جیلانی،سینئرنائب صدرعلامہ سیدہاشم موسوی،نائب صدورڈاکٹرعطاالرحمان،مولاناانوارلحق حقانی،مولاناہدایت الرحمان بلوچ،علامہ اکبرحسین زاہدی،رانامحمداشفاق،سیدعتیق الرحمان،مولانا عبدالکبیرشاکر،نجیب الرحمان ساسولی کہا کہ حکمران اسلام سے انحراف بند کریں، قرآن وسنت سے متصادم، پاکستان کی اقتصادی غلامی کی ظالمانہ قانون سازی ختم کی جائے۔سودی معیشت،اسٹیٹ بنک ومعیشت کوآئی ایم ایف کے حوالے کرنا ملک دشمنی ہے۔حکومت قادیانی نوازی ختم کریں حکومتی آستینوں میں قادیانیوں کے آلہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی حکمرانی ہی پاکستان کو مثالی اسلامی خوشحال فلاحی ریاست بنا سکتی ہے۔ سود، قرضوں کرپشن، بدانتظامی اور نااہلیت کی لعنت وراج کو ختم کر کے خود انحصاری کی بنیاد پر اسلام کا معاشی نظام حل ہے۔ قادیانی پاکستان کے آئین کو تسلیم کر لیں تو انہیں اقلیتوں کے تمام حقوق مل جائیں گے، آئین کو نہ مان کر وہ مشکوک اور پاکستان کے لئے ناقابلِ اعتبار ہیں۔ حکومت قادیانی نوازی ختم کرے، حکومتی آستینوں میں لادین طبقہ قادیانیوں کا آلہ کار ہے۔ موجودہ حکومت عوام پر عذاب اور ظلم ہے، آئین وقانون کی بالادستی، سماجی اقتصادی اور عدالتی انصاف کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت اورجدوجہد کی منزل ہے۔ سندھ میں بلدیاتی ایکٹ میں پی پی پی حکومت نے شہری حقوق، اختیارات چھیننے کے لئے ترامیم کے ذریعے قانون کو کالا بنا دیا ہے۔بلوچستان کے ہر علاقے کے مظلوموں کو حکمران جائز حقوق دینے ہوں گے۔ آمرانہ اورغیر جمہوری رویہ خود اِن کے لئے مہنگا سودا ہو گا۔ کچھ قوتیں اور ان کے ایجنٹ افغان عوام کو اسلام کی برکات اور خطہ میں افغان عوام کی کامیابی کے ثمرات سے محروم رکھنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ دینی جماعتوں، مساجد ومدارس کے درمیان تقسیم ایک حقیقت ہے لیکن سب کے دینی مشترکات، قرآن وسنت کی بنیاد ایک ہے، علما ومشائخ، منبرومحراب کو بحرانوں کی کیفیات میں قائدانہ اور جوہر کردار ادا کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں